المحراب — Page 111
ہیں جو مٹی کو سونا بناتے ہیں ماہر ہیں۔میں کوشش بھی کروں تو الفاظ میں ان کی غیر حاضری میں آپ نے احسن اہنگ میں فرائض کو سر انجام دیا۔اپنے جذبات کا عالم بیان نہیں کر سکتی۔میں تو ایک عاجہ ناکارہ اور اللہ تعالے مقبول بارگاہ میں خدمت کی توفیق عطافرماتا رہ ہے ؟ کم ہمت بندی تھی۔اس مسیحا نے میری ہستی بدل ڈالی۔ان ہی کی دعاؤں ہر پندرہ دن کے بعد حضور پر نور کی خدمت میں کارگزاری رپورٹ اور رہنمائی کے طفیل مجلس عاملہ اور نمبرات کا مکمل تعاون حاصل رہا۔کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا رہا۔جلدی ہی اندانہ ہو گیا کہ حضور پیری با یک بینی خاص طور پر مترمہ نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مرتنا ظفر احمد صاحب مرحوم سے رپورٹوں کا مطالعہ فرماتے ہیں اس لئے رپورٹ لکھنے والوں کو بہت کی خدمت میں بدیہ تشکر پیش کروں گی جو ایک لمبے عرصے تک کراچی کی محتاط رہنے کے بعد بھی احساس رہتا کہ کوئی نادانستہ کو تا ہی حضور کی طبیعت صدر رہ ہیں مگر جب خاکسارہ کو صدر بتا دیا گیا تو کمال بشاشت سے ہر طرح پر گراں نہ گزرے ہر یہ پورٹ پر حضرت صاحب کی طرف سے وصولی کا خط تعاون کیا خدا تعالے ان کو جزائے خیر سے نواہ سے ملتانہ رہا۔جیسن میں قیمتی در عائیں ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔ان خطوط کی شکل پانچ رکنی کمیٹی میں سے مشفق دخترم صاحب الرائے اور ذہین و فطین نمبر میں پیالیہ دلجوئی، رہنمائی اور شفقت کا ایک قیمتی خزانہ ہمارے ہاتھ لگا۔مرمر تیری حمید صاحبہ لاہور منتقل ہو گئیں ان کی جگہ ختمہ محمودہ امتہ السمیع لجنہ کراچی اس خزانہ پر جتنا بھی خدا تعالے کا نشہ کرے کم ہے۔وہاب صاحبہ کی تقریری کی۔۲۱ دسمبر ۱۹ء کو منظوری آگئی۔عہدیدار وں قسمت کے ان شمار کی لذت اور مخود انبساط کا اندازہ چمکن نہیں کی تقریری اور منظور کی حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور بعد ازاں حضرت جو پیارے آقا کے ہر خط کے ساتھ محسوس کی جاتی۔حضرت خلیفہ ایسے الثالث خلیفہ مسیح الرابع کی طرف سے ہوتی رہی۔محترمہ بشری حمید صاحہ سیکو بڑی کا لجنہ کراچی کے نام ان کا خطبوں کی زندگی کا آخری خط ثابت ہوا موصول ہوا۔مال اور محترمہ صادقہ قمر صا حیر سیکر ٹڈی ناصرات الاحمدیہ اور ان کی شادی ماه جون ۱۹ ء میں حضور کا مکتوب موصول ہوا۔کے بعد محترمہ ناصرہ لطیف بیگم بامردن صاحبہ کی منظوری بھی حضرت صاحب آپ کی طرف سے پندرہ روزہ رپورٹ حضور اقدس کی سے لی گئی۔آفس سیکرٹری نگرانات اور حلقہ جات کی عہدیداروں کے خدمت میں موصول ہوئی۔حضور نے بعد ملاحظہ فرمایا ہے۔انتخاب کے بعد منظوری لی جاتی رہی۔اس ہدایت کو مد نظر رکھتے ہوئے بتدا کم اللہ احسن الجزاء صلح کی عہدیداران نے بڑی محنت اور جرات سے کام شروع کیا۔جہاں تھی کسی تقریب کا علم ہوتا پہلے سے جا کر بڑے پیار سے ناجائز رسوم و رواج ڈالے اور مقبول خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔سے روک دیا جاتا۔یا خطوط کے ذریعے سمجھا دیا جاتا اگر خدا نخواستہ کوئی بے قاعدگی ہوتی تو اس کی مکمل رپورٹ صدر کمیٹی لجنہ اماءاللہ کو پیش کریں مفارقت دے کر مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گیا۔اس جانے والی منفدک ہو حضور کی خدمت اقدس میں بھیجوائی جاتی رہیں۔روح کے لئے رحمتوں اور برکتوں کی دعاؤں کے ساتھ ہم نے قدرت ی لجنہ اماءاللہ ضلع کو اچی کی خوش نصیبی ہے کہ اس طرح خلیفہ ثانیہ کے منظر رائع کا استقبال کیا اور تجدید عہد وفا کے ساتھ ایک نئے وقت ہر ممز دری اور خامی پر ان کی نشاندہی فرماتے رہے اور ساتھ ہی دور میں داخل ہو گئے۔آپ نے ہماری رپورٹوں کے جواب میں یہ کچھ پر درد دعائیں بھی ان کا مقصد نہ بنتی رہیں انتظامی معاملات میں استفسارات فرمائے۔اس طرح نئے قافلہ سالانہ کی ماہ جنوری میں مکہ مکر سلیم میر صاحبہ صدر کیٹی بیرون ملک تشریف رہنمائی میں نے عزم و حو صار سے سفر شروع ہوا خلافت سے محبت عقیدت لے گئیں۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشاد پر محکمہ آپا نمیره کو حضور کے کراچی کے دوروں نے وسعت اور گہرائی عطا کی۔فروری بیگم صاحبہ کو قائمقام صدر منتظمہ کینی کا چارج ۱۴ جنوری ۹۳ ریڈ کو سونیا۔آپ ۱۹۸۳ء ، اگست ۱۹۸۳ء اور فروری ۱۹۸۴ء میں مجالس عرفاں اور لجنہ گیارہ ماہ تک نہایت خوش اسلونی اور ذمہ داری کے ساتھ لجنہ کے کام سرانجام کی محافل سوال دیجواب میں بنفس نفیس حضور کے دیدار سے فیضیابی نے دیتی رہیں۔مورخہ 14 دسمبر 19 ء کے خط میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع بعد یہ عمل کو مہمیز کیا۔حضور نے لجنہ کی مجالس عاملہ کی صدارت بھی فرمائی۔آپ ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے نام خط میں ارشاد فرمایا کسینا کہ اللہ احن الجزار کی ہدایات نے البتہ کراچی کو ایک تھی راہ عمل پر گامزن کیا۔اور دعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی میں برکت ماہ جون نہ ہی وہ مہینہ تھا۔جب ہمارا محسن آقا ہمیں داغ 119