المحراب — Page 105
یادرفتگاں متر در سیلم بیگم صاحبہ گر آپ ذرا نہ گھبرائیں اور اسی سکون سے تقریر جاری رکھی۔مگر اهلیه سیٹھ محبوب الہی حصه مجمع اکھڑ چکا تھا۔اور عورتیں ان پر چڑھ دوڑی تھیں مگر بعض مہران خواتین نے انہیں بچا کر اسٹیج سے اتار لیا۔دوسرے دن اخبار میں اس بیوشیمی خاتون کے بارے میں خوب گرما گرم خبریں لگیں۔متر یک سیر میگیم حیدر آباد دکن کے ایک معونہ تاجر سیٹھ آپا سلیمہ بیگم کے شوہر اپنے خاندان کے اکیلے احمدی تھے اور خاندان محمد غوث صاحب کی بیٹی تھیں۔ان کا اصلی نام تو احمدی بیگم رکھا گیا تھا والوں سے ان کی مخالفت ملتی رہتی تھی مگر آپا سلیم بیگ کی خوش اخلاقی مگر سلیمہ پکارے جانے کی وجہ سے یہی نام مشہور ہوا۔اور احباب جماعت نرم رویے اور ہمدردانہ سلوک نے بہت جلدار سسرال بھر کو ان کا گرویدہ انہیں سلیمہ بیگم حیدر آبادی کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔بنا دیا اور وہ آہستہ آہستہ انہیں اپنی تمام تقریبات میں شامل کرنے ان کے بچپن میں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی تصور نہ تھا مگر آپا سلیم لگے۔مگر آپا سلیمہ بیگم سختی سے کہہ دیتیں کہ دیکھو میں تمہاری رسومات کو لکھنے پڑھنے کا جنون کی مدت تک شوق تھا۔والدہ صاحبہ کی نیم رضامندی میں شامل نہیں ہوں گی۔بعد میں شکایت نہ کرنا۔یہانتک کہ ان میں اور والد صاحب کی طرفداری کی بناء پر گھر میں پانی بھرنے والے پرانے سے اکثر خواتین خود بھی ان بدعات اور رسومات سے گریز کرنے ننھے سے قرآن مجید ناظره بعمر ۸ سال ختم کیا۔اور فطری شوق کی بنیاد پر گیں۔دراصل ان کا لہجہ ہی اس قدر پر متقین اور موثر ہوتا تھا کہ بہت جلد لکھنا بھی سیکھ لیا۔اور روانی سے اُردو لکھنے پڑھنے لگیں۔سننے والا غیر محسوس طریق پہ قائل ہوتا چلا جاتا تھا۔حیدر آباد دکن کی آپ کے والد احمدیت قبول کر چکے تھے۔اس نہ مانے میں مولانا منیر صاب لجنہ کی سرگرم رکن ہونے کی بنا و پر دیسے بھی لوگ ان کی بہت مونت تبلیغی جلسوں میں آیا کرتے تھے۔چونکہ آپا سلیمہ کو جلسوں میں جانا بہت کرتے تھے۔ایک مرتبہ سخت بیمار پڑیں حالت اتنی زیادہ خراب ہو گئی کہ چلنے پھرنے سے قاصر ہوگئیں۔مگر ڈاکٹر حیران تھے کہ اس پسند تھا اس لئے والد صاحب اکثر انہیں ساتھ لے جاتے یہانتک کہ وہ خود تقریریں کرنے کے قابل ہوگئیں۔حیدر آباد میں پڑھی لکھی عورت کی قوت ارادی کس قدر مضبوط ہے کہ یہ پھر اٹھ کھڑی ہو ئیں خواتین نے ایک ادارہ قائم کر رکھا تھا "حقوق نسواں، آپ بھی اور قیام پاکستان کے بعد حسب عادت یہاں آکر اپنی سرگرمیوں میں اس کی ممبر بن گئیں اور عورتوں کے حقوق دفلاح و بہبود کے سلسلہ لگ گئیں۔ہمیشہ سے بہت ہمدرد اور ملنسار غریب پرور اور سخنی میں کام شروع کر دیا۔ایک مرتبہ اس ادارے نے مذہبی نوعیت خاتون تھیں۔جب میگم بشیر احمد صاحب صدر لجنہ کراچی کے انڈسٹریل ہوم کا ایک جلسہ منعقد کیا۔آیا جان نے بھی اس جاسہ میں اپنا موقف بیان کے لئے ان کا نام تجویز کیا تو اس لئے فوراً کر ضامندہ ہو گئیں کہ اس طرح کرنے کی اجازت حاصل کرلی۔بعض ہمدردہ خواتین نے انہیں بانہ غریب عورتوں کی کچھ دار رہی ہو سکے گی۔اس زمانے میں انڈسٹریل ہوم رکھنے کی کوشش کی۔مگر یہ نہ مانیں۔دوران تقریر اچانک خواتین میں بعض بغیر از جماعت نہیں بھی کام کرتی تھیں۔ایک عورت جو بے اولاد نے مشوب مجانا شروع کر دیا کہ یہ تو قادیانیت کی تبلیغ کہ رہی ہے تھی اس نے بطور خاص آیا جان سے دعا کے لئے کہا۔آپا جان نے حضور یہ ض بخوشیلی خواتین اسٹیج پر چڑھ آئیں اور انہیں مارنے کیلئے بڑھیں کو دعا کے لئے خط لکھا۔اور محمود بھی بہت مدعا کی۔اللہ کی قدرت کہ ۱۱۳