المحراب

by Other Authors

Page 103 of 167

المحراب — Page 103

مرا با خدمت خلق کی رسیا ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہو نیوالی دینی تعلیم حاصل کی۔بالی کے نئش اعلانیہ اور خفیہ دل کھول کر دیا کرتی ہیں۔آپ کے نیک ارنہ سالہ ۱۹ ء میں شادی کے بعد کوئٹ چلی گئیں۔کراچی لجنہ میں خدمات سے دیگر خواتین بھی پیش پیش رہتیں مسجد کوپن ہیگن میں چندہ دہندگان کے کا 190 ء سے شروع ہوتا ہے۔حلقہ ناظم آباد سے کام کا آغازہ کیا لگن اور مام ابعرض دا ہور ڈنگہ پر کھا کر منہ کی گیلری میں آویزاں کر دانے۔لجنہ تند ہی سے کام کر نے کی عادی ہیں۔حسن کارکردگی کے متعدد انعامات کی تزینی کلاسز کا اجراء کیا۔تعلیمی ترقی کے لئے لجنہ کراچی اسکالر شپ جاری لئے 194 ء میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں منتقل ہونے سے پہلے بحثیت کئے میور یو د بھیجے جاتے۔رمضان المبارک میں درس القرآن کا خاص اہتمام سیکریڑی حلقہ اور پھر صدر حلقہ کام کرنے کی توفیق ملی ۱۹۶۵ م کی جنگ کہ دائیں بر ۱۹۶۵ء کی جنگ میں ملکی ضرورت کے پیش نظر احمد یہ ہاں میں کے وقت سیکریٹری مال تھیں۔دفاعی فنڈ جمع کرنے میں سخت محنت سے عمیرات کو جمع کر کے اُونی سویٹر اور ٹوپیاں بنوائیں اور دوسری اشیائے کام کیا نہ میں نائب صدر موصیات منتخب ہوئیں۔موصیات کی فہرستیں مزدورت جمع کر کے گفٹ پیک بنوائے۔ایک جلسہ میں دفاعی ضرورت مرتب کیں اور متنفر کرنی موصیات بنائیں۔کئی مرتبہ بیرون کراچی اور کراچی کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی جس کے نتیجہ میں دائم تولے سونے کے زیورات میں وقف عارضی کیا۔اور 4 ہزار روپے نقد رقم جمع ہوئی ہو صدر کے دفاعی فنڈہ میں جمع کرادی محترمہ بیگم مجیدہ شاہنوا نہ صاحبہ کے لندن منتقل ہو جانے کی وجہ سے لجنہ کے کاموں پر اثر پڑتا تھا۔اس لئے انہوں نے محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ گئی۔اس وقت کے صدمہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صاحب نے لجنہ کراچی کے نام خصوصی تشکر نامہ بھیجوایا۔اس کے علاوہ بے شمار کپڑے اپوا کے کو قائم مقام صدر مقرر کیا۔تین سال بیک - درایتی حسن کارکردگی کے ساتھ اس عہدہ پر عملاً صدر کا کام کرتی رہیں یہ میں حضرت چھوٹی آپا صاحبہ ذریعے بھجوائے گئے میرا 196 ء کی جنگ میں بھی کثیر سامان بھیجا گیا۔کراچی میں خواتین کی دوسری انجمنیں بھی ہیں مگر ان خدمات کی وجہ سے لجنہ کراچی کی نے ان کی خرابی صحت کی وجہ سے محترمہ آپا نصیرہ بیگم صاحبہ کو صدر مقریر حیثیت ممتاز رہی۔احمدی خواتین کو لیڈی ڈفرن ہسپتال میں فرسٹ ایڈ فرما دیا۔آپا نصیرہ بیگم صاحبہ کے ساتھ نومبر 19ٹ سے نائب صدر کے عبدہ پر کام کرتی رہ ہیں یا میں قیادت میرا کی نگران مقررہ ہوئیں۔اور نرسنگ کی تربیت دلائی۔آپ اپنی خوش اخلاقی، خندہ پیشانی اور تحمل طبیعت کی وجہ سے اپنے ملنے والوں پر بہت خوشگوار اثر ڈالتی ہیں۔نافع الناس دیجو د ہیں محمة الصيرة تم صباح خدا تعالے آپ کی قربانیوں کوکئی گنا اجر سے نوازے اور تاحیات مقبول فورمات دینیہ کی توفیق عطا کرتا چلا جائے۔آمین۔اَهله البزاره مرز اظفر احمد منا ۱۹۸۱ (8196 حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بڑے صاحبزادے مرزدا بیگم ایم اے خورشید احک سلطان احمد صاحب کے بڑے صاحرارے مرتد عن بیز احمد کی صاحبزادی ہیں۔سات سال کی عمر میں والدہ مخزیمہ شریفہ بیگم صاحبہ کے انتقال کی قائم مقام صد ۱۹۷ء تا ۱۹۷۲ء جہ سے پر درش و تربیت کی ذمہ داری نانی اماں محترمہ رضیہ بیگم مرزا اسلم میک صاحب اور نیچی محترمہ امتہ السلام بیگم صاحبہ نے ادا کی۔قرآن پاک ناصرہ بیگم صاحبہ اکوڑہ خٹک میں محترمہ نویر بی بی صاحبہ اور محترم عبد الغفور صاحب کے ہاں پیدا ہوئیں۔ایبٹ آباد ہاسٹل میں رہ کر ناظره درجمه محترمه استانی مریم بیگم صاحبہ اور حضرت حافظ روشن علی صاحب مڈل تک تعلیم حاصل کی پھر قادیان کی دینیات کلاستر میں تین سال سے پڑھا والد صاحب ہیجسٹریٹ درجہ اول تھے۔سرکاری تبادلوں کی دیہ