المحراب — Page 102
بن چکا ہے۔اللہ کرے کہ اس کی شاخیں ہمیشہ سرسید احمد تو دامہ رہیں۔اجلاس شروع کر دائے ینگ احمد یہ ویمن ایسوسی ایشن قائم کی احمدی لڑکیوں کو خاتون انسٹرکٹرنہ سے سیلف ڈیفنس کی تربیت دلانے کا اہتمام (آمین ثم آتین) - کیا۔ناظم آب دیں جو اس وقت شہر سے دور سمجھا جاتا تھا۔پرائمری اسکول محترمہ احمد دیگر جماع کھولا جو بہت جلد اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے مقبول ہوگیا۔احمدی بینکوں کو ہرمند بنانے اور کچھ ذریعہ آمد پیدا کرنے کے قابل بنانے کے لئے انڈسٹریل ہوم کھولا۔جس کا کام بہت عمدہ ہوتا گا ہے گاہے نمائش بھی بیگم چوهدی بشیر ده کا هاور انہیں ان کے کاموں میں اس کی وجہ سے ان کی کیاری میں کی عهد صدارت ۱۹۴ تا ۱۹۵۹ محترمہ احمدہ بیگم صاحبہ کا تعلق ایک دیندار، تعلیم یافته، معزز زمیندار گھرانے سے تھا۔والد صاحب اعلی پائے کے وکیل تھے۔اسلامی حساب کتاب کا شعبہ قائم کیا۔سالانہ رپورٹ شائع ہونے لگی۔لجنہ کی عمیرات کا لائحہ عمل مرتب کیا۔قطری مہمان نوازی اور منتظم مزاج کی وجہ سے مہمانوں کو حفظ مراتب کے لحاظ سے اہمیت دیتیں اور دعوتیں۔میں۔احکام کی سختی سے پابندی کرتے اور کرواتے تھے سلسلہ سے متاثر تھے محترمہ مجیدہ میم جنگ مگر عہد بیعت نہیں باندھا تھا کیونکہ اس کو نبھانا بہت مشکل تصور کرتے این یکی یار یاری یا ان میں کیا سوال میں دریا میری بیگم چوری شاہ نواز صاحب پر قبول احمدیت کے لئے کوئی دباؤ نہ ڈالا گیا۔راوحق کی پہچان کے لئے دعا کر ہیں اور دینی کتب کا مطالعہ کرتیں ایک خواب میں حضرت بانی سلسلہ کی زیارت ہوئی آپ نے فرمایا وقت آنے پر بیعت کر لو گی چنانچہ حسب بشارت ۱۹۲۵ میں باقاعدہ سلسلہ میں شامل ہونے کی عهد صدارت ۱۹۵۹ء تا ۶۱۹۷۲ آپ کا نام مجیدہ بیگم ہے۔والد صا حب کا نام نواب محمد دین آپ نے ایف اے تک لاہور میں تعلیم حاصل کی۔آپ سعادت حاصل ہوئی۔شوہر کی سرکاری ملانہ مت میں شہر شہر تبدیلیوں کی صاحب اندر والدہ محترمہ کا نام سکینہ بی بی صاحبہ ہے۔وجہ سے کئی جگہ رہنے کا موقع ملا ہر جگہ احمدی خاندانوں سے رابطہ کرتیں اور نماز جمعہ و اجلاسوں میں شامل ہوئیں۔جلسہ ہائے شبیر النبی صل اللہ کی یتیم کے والدین سیالکوٹ میں رہتے تھے۔وہاں سے بیاہ کہ کراچی آگئیں اور رشتہ منعقد کروانے کا خاص شوق تھا۔معززین شہر سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے محترمہ احمدہ بیگم صاحبہ چودھری بشیر احمد کے صاحب کے ساتھ کام شریع سے حاضری کافی ہوتی جو حلقہ احباب میں آپ کے دینی متوقف کے کیا۔پہلے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔پھر 1900ء میں صدر منتخب ہوئیں۔لجنہ کراچی کی عہد آفریں شخصیت ہیں۔پہلی سالانہ رپورٹ ہو ۱۹۹۵۰ء تعارف کا ذریعہ نیتی۔آپ ایک شعلہ بیان مغفرتہ تھیں۔19 ء میں دہلی میں حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کی زیر نگرانی کی ہے آپ کے ہاتھ کی تحریر کردہ ہے۔لجنہ کی سالانہ اجتماعات میں جو قبل انہیں ہونے والے انتخاب میں آپ دہلی لجنہ کی صدر منتخب ہوئیں۔آپ اپنے ایک دن پرمشتمل ہوتے تھے دو دن کا اضافہ کیا اس طرح تین دن کے مفوضہ فرائض بڑی جانفشانی سے ادا کرتیں۔تقسیم برصغیر کے بعد کو اچی اجتماعات میں ناصرات الاحمدیہ کی بھر پو ہ نمائندگی ہونے لگی۔ان پروگراموں آکر خدمت میں مستعد ہو گئیں محترمہ بیگم احمد جان صاحب کے ساتھ کام میں مرکزی نمائندوں کو دعوت دی جاتی چنا نچہ حضرت سید ہ نواب بہانہ کہ بیگم شروع کیا ۱۹۴ ء میں کراچی لجنہ کی صدر منتخب ہوئیں تقسیم کے معا بعد صاحبہ - حضرت سیدہ تواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور حضرت سید مریم صدیقہ کے ناگفتہ بہ حالات میں احمدی خاندانوں سے رابطہ کیا اپنی قیام گاہ پر صاحبہ جیسی موقر و محترم ہستیاں ان اجتماعات ہمیں رونق افروز ہوئیں۔آپ ١١٠