اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 91

۹۱ جل شانہ و عزاسمہ غرض چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات باوجود نہایت روشن ہونے کے پھر بھی نہایت مخفی ہوتی ہے اس لئے اس کی شناخت کے لئے صرف یہ نظام جسمانی جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کافی نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام پر مدار رکھنے والے باوجود یکہ اس ترتیب ابلغ اور محکم کو جو صد ہا عجائبات پر مشتمل ہے نہایت غور کی نظر سے دیکھتے رہے بلکہ ہیئت اور جوصد طبعی اور فلسفہ میں وہ مہارتیں پیدا کیں کہ گویا زمین و آسمان کے اندر دھنس گئے مگر پھر بھی شکوک اور شبہات کی تاریکی سے نجات نہ پاسکے اور اکثر اُن کے طرح طرح کی خطاؤں میں مبتلا ہو گئے اور بے ہودہ اوہام میں پڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے اور اگر ان کو اس صانع کے وجود کی طرف کچھ خیال بھی آیا تو بس اسی قدر کہ اس اعلیٰ اور عمدہ نظام کو دیکھ کر یہ اُن کے دل میں پڑا کہ اس عظیم الشان سلسلہ کا جو پر حکمت نظام اپنے ساتھ رکھتا ہے کوئی پیدا کرنے والا ضرور چاہئے مگر ظاہر ہے کہ یہ خیال نا تمام اور یہ معرفت ناقص ہے کیونکہ یہ کہنا کہ اس سلسلہ کے لئے ایک خدا کی ضرورت ہے اس دوسرے کلام سے ہرگز مساوی نہیں کہ وہ خدا در حقیقت ہے بھی۔غرض یہ اُن کی صرف قیاسی معرفت تھی جو دل کو اطمینان اور سکینت نہیں بخش سکتی اور نہ شکوک کو بکلی دل پر سے اٹھا سکتی ہے اور نہ یہ ایسا پیالہ ہے جس سے وہ پیاس معرفت تامہ کی بجھ سکے جو انسان کی فطرت کو لگائی گئی ہے۔بلکہ ایسی معرفت نا قصہ نہایت پر خطر ہوتی ہے۔کیونکہ بہت شور ڈالنے کے بعد پھر آخر پیچ اور نتیجہ ندارد ہے۔غرض جب تک خود خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر نہ کرے جیسا کہ اُس نے اپنے کام سے ظاہر کیا تب تک صرف کام کا ملاحظہ تسلی بخش نہیں ہے۔مثلاً اگر ہم ایک ایسی کوٹھڑی کو دیکھیں جس میں یہ بات عجیب ہو کہ اندر سے کنڈیاں لگائی گئی ہیں تو اس فعل سے ہم ضرور اول یہ خیال کریں گے کہ کوئی انسان اندر ہے جس نے اندر سے زنجیر کو لگایا ہے۔کیونکہ باہر سے اندر کی زنجیروں کو لگانا غیر ممکن ہے۔لیکن جب ایک مدت تک بلکہ برسوں تک باوجود بار بار آواز دینے کے اس انسان کی طرف سے کوئی آواز نہ آوے تو