اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 89

۸۹ جل شانہ و عزاسمہ نظارے دکھلاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ یقین کر دیتا ہے کہ وہ وہی ہے جس کو خدا کہنا چاہئے۔دعائیں قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کی اطلاع دیتا ہے۔وہ بڑی بڑی مشکلات حل کرتا ہے اور جو مُردوں کی طرح بیمار ہوں اُن کو بھی کثرت دُعا سے زندہ کر دیتا ہے اور یہ سب ارادے اپنے قبل از وقت اپنے کلام سے بتلا دیتا ہے۔خدا وہی خدا ہے جو ہمارا خدا ہے۔وہ اپنے کلام سے جو آئندہ کے واقعات پر مشتمل ہوتا ہے ہم پر ثابت کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا وہی خدا ہے۔وہی ہے جس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے طاعون کی موت سے بچاؤں گا اور نیز ان سب کو جو تیرے گھر میں نیکی اور پر ہیز گاری کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں بچاؤں گا۔اس زمانہ میں کون ہے جس نے میرے سوا ایسا الہام شائع کیا اور اپنے نفس اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں اور دوسرے نیک انسانوں کے لئے جو اس کی چار دیوار کے اندر رہتے ہیں خدا کی ذمہ داری ظاہر کی۔(نیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۴۹،۴۴۸) منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں ایک برتر ہستی کی تلاش ہے جس کے لئے اندر ہی اندر انسان کے دل میں ایک کشش موجود ہے اور اس تلاش کا اثر اسی وقت سے ہونے لگتا ہے جب کہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آ تا ہے۔کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی پہلے روحانی خاصیت اپنی جو دکھاتا ہے وہ یہی ہے کہ ماں کی طرف جھکا جاتا ہے اور طبعاً اپنی ماں کی محبت رکھتا ہے۔اور پھر جیسے جیسے حواس اس کے کھلتے جاتے ہیں اور شگوفہ فطرت اس کا کھلتا جاتا ہے یہ کشش محبت جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی اپنا رنگ روپ نمایاں طور پر دکھاتی چلی جاتی ہے پھر تو یہ ہوتا ہے کہ بجز اپنی ماں کی گود کے کسی جگہ آرام نہیں پاتا۔اور پورا آرام اس کا اسی کے کنارِ عاطفت میں ہوتا ہے۔اور اگر ماں سے علیحدہ کر دیا جائے اور ڈور ڈال دیا جائے تو تمام عیش اس کا تلخ ہو جاتا ہے اور اگر چہ اس کے آگے نعمتوں کا ایک ڈھیر ڈال دیا جاوے تب بھی وہ اپنی سچی خوشحالی ماں کی گود میں ہی دیکھتا ہے اور اس کے بغیر کسی طرح آرام نہیں پاتا۔سو وہ کشش محبت جو اس کو اپنی ماں