اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 88

۸۸ جل شانہ و عزاسمہ طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی نہیں بناتا کیونکہ اُس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے۔پس ذرہ آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہئے کہ ایک کام کرنے سے عاجز ہونا اور بات ہے لیکن باوجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اور بات ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۳۰ تا ۲۳۳ حاشیه ) اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔قدیم سے اہلِ حق حضرت واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوب ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناع ذاتی اور امکان بالواجب عزاسمہ کا عقیدہ ہے۔یعنی یہ عقیدہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کے ہویت حقہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو۔مگر ممکنات جو هَالِكَةُ الذَّات اور بَاطِلَةُ الْحَقِيقَت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عزاسمہ جائز نہیں۔اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔پس ممکنات کے لئے نَظرًا عَلیٰ ذَاتِهم عالم الغیب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔خواہ نبی ہوں یا محدث ہوں یا ولی ہوں۔ہاں الہام الہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے۔اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تا بعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۵۴،۴۵۳) ہمارا زندہ حتی وقیوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے۔ہم ایک بات پوچھتے اور دُعا کرتے ہیں تو وہ قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے۔اگر یہ سلسلہ ہزار مرتبہ تک بھی جاری رہے تب بھی وہ جواب دینے سے اعراض نہیں کرتا۔وہ اپنے کلام میں عجیب در عجیب غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور خارق عادت قدرتوں کے