اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 4

جل شانہ و عزاسمہ کے لوگ کئی لاکھ اس زمانہ میں پائے جاتے ہیں۔جو اپنے تئیں اوّل درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبردست ان کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے اور اگر وجود باری جل شانہ پر کوئی برہان یقینی عقلی اُن کو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھیٹھے اور جنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پاسکتا بلکہ ضرور غرق ہو گا۔اور ہرگز ہرگز شربت توحید خالص اوس کو میسر نہیں آئے گا۔اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بد بودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آ سکتی ہے۔اور اس سے انسان نجات پاسکتا ہے۔اے نادانو ! جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔پس یقینا سمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بدمذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے اُن نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اُس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خدا کی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۱،۱۲۰) یا درکھو کہ انسان کی ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ ان تمام دقیق در دقیق خدا کے کاموں کو دریافت کر سکے بلکہ خدا کے کام عقل اور فہم اور قیاس سے برتر ہیں اور انسان کو صرف اپنے اس قدر علم پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اس کو کسی حد تک سلسلہ علل و معلولات کا معلوم ہو گیا ہے کیونکہ انسان کا وہ علم نہایت ہی محدود ہے جیسا کہ سمندر کے ایک قطرہ میں سے کروڑم