اللہ تعالیٰ — Page 84
۸۴ جل شانہ و عزاسمہ معمولی علموں میں سے بڑا یقینی اور قطعی وہی علم معلوم ہوتا ہے جو ہم کو اپنی ہستی کی نسبت ہے۔کیونکہ ہم اور ایسا ہی ہر ایک انسان کسی حالت میں اپنی ہستی کو فراموش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں کوئی شک کر سکتا ہے سو جہاں تک ہماری عقل کی رسائی ہے ہم اس قسم کے علم کو اشد و اقوی واتم واکمل پاتے ہیں اور یہ بات ہم سراسر خدائے تعالیٰ کی ذات کامل سے بعید دیکھتے ہیں کہ جو اس درجہ اور اس قسم کے علم سے اس کا علم اپنے بندوں کے بارہ میں کمتر ہو۔کیونکہ یہ بڑے نقص کی بات ہے کہ جو اعلیٰ قسم علم کی ذہن میں آسکتی ہے وہ خدائے تعالیٰ میں نہ پائی جائے۔اور اعتراض ہو سکتا ہے کہ کس وجہ سے خدائے تعالیٰ کا علم اعلیٰ درجہ کے علم سے متنزل رہا۔آیا اس کے اپنے ہی ارادہ سے یا کسی قاسر کے قسر سے۔اگر کہو کہ اس کے اپنے ہی ارادہ سے تو یہ جائز نہیں کیونکہ کوئی شخص اپنے لئے بالا رادہ نقصان روا نہیں رکھتا تو پھر کیونکر خدائے تعالیٰ جو بذات خود کمالات کو دوست رکھتا ہے ایسے ایسے نقصان اپنی نسبت روار کھے اور اگر کہو کہ کسی قاسر کے قسر سے یہ نقصان اس کو پیش آیا تو چاہئے کہ ایسا قاسر اپنی طاقتوں اور قوتوں میں خدائے تعالیٰ پر غالب ہو۔تا وہ زیادت قوت کی وجہ سے اس کو اس کے ارادوں سے روک سکے اور یہ خود ممتنع اور محال ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ پر اور کوئی قاسر نہیں جس کی مزاحمت سے اس کو کوئی مجبوری پیش آوے۔پس ثابت ہوا کہ ضرور خدائے تعالیٰ کا علم کامل تام ہے۔اور پہلے ہم ابھی ثابت کر چکے ہیں کہ علم کی تمام قسموں میں سے کامل و تام وہ علم ہے کہ جو ایسا ہو جیسے ایک انسان کو اپنی ہستی کی نسبت علم ہوتا ہے۔سوماننا پڑا کہ خدائے تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارہ میں اسی علم کی مانند اور اس کے مشابہ ہے گو ہم اس کی اصل کیفیت پر محیط نہیں ہو سکتے لیکن ہم اپنی عقل سے جس کی رو سے ہم مکلف ہیں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بڑا اقطعی اور یقینی علم یہی ہے جو عالم اور معلوم میں کسی نوع کا بعد اور حجاب نہ ہو سو وہ قسم علم کی یہی ہے۔اور جس طرح ایک انسان کو اپنی ہستی پر مطلع ہونے کے لئے کسی دوسرے وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ جاندار ہونا اور اپنے تئیں جاندار سمجھنا دونوں