اللہ تعالیٰ — Page 83
۸۳ جل شانہ و عزاسمہ الوہیت کو کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کرنا بودنہ ہو جائیں سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خدا تعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں۔سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں در حقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے۔۔۔پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا وہ دو ۲ نہریں ہیں جوا اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ایک نہر دوسرے کی ہرگز مزاحم نہیں ہے۔دنیا کی سلطنتوں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ کو سزا ملتی ہے لیکن جو لوگ اچھے کاموں سے گورنمنٹ کو خوش کرتے ہیں وہ مورد انعام واکرام ہو جاتے ہیں۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے واقف ہوتا ہے تب اس حالت میں وہ عدل کے مؤاخذہ کے نیچے آتا ہے۔لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں۔اور چونکہ خدا تعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حد ودمرتب گئے۔سوعدل اور رحم میں تناقض سمجھنا جہالت ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۳، ۷۴ ) یہ ایک نہایت بار یک صداقت ہے کہ علم باری تعالیٰ جس کی کاملیت کی وجہ سے وہ ذرہ ذرہ کے ظاہر و باطن پر اطلاع رکھتا ہے کیونکر اور کس طور سے ہے۔اگر چہ اس کی اصل کیفیت پر کوئی عقل محیط نہیں ہو سکتی مگر پھر بھی اتنا کہنا سراسر سچائی پر مبنی ہے کہ وہ تمام علم کے قسموں میں سے جو ذہن میں آ سکتے ہیں اشد و اقوی واتم و اکمل قسم ہے۔جب ہم اپنے حصول علم کے طریقوں کو دیکھتے ہیں اور اس کے اقسام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنے سب