اللہ تعالیٰ — Page 82
۸۲ جل شانہ و عزاسمہ جس طرح چاہے معاملہ کرے۔جس کو چاہے بادشاہ بنا وے۔اور جس کو چاہے فقیر بنا وے۔اور جس کو چاہے چھوٹی عمر میں وفات دے اور جس کو چاہے لمبی عمر عطا کرے۔اور ہم بھی تو جب کسی مال کے مالک ہوتے ہیں تو اس کی نسبت پوری آزادی رکھتے ہیں ہاں خدا رحیم ہے بلکہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہے وہ اپنے رحم کے تقاضا سے نہ کسی انصاف کی پابندی سے اپنی مخلوقات کی پرورش کرتا ہے۔کیونکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ مالک کا مفہوم منصف کے مفہوم سے بالکل ضد پڑا ہوا ہے۔جبکہ ہم اس کے پیدا کردہ ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اس سے انصاف کا مطالبہ کریں۔ہاں نہایت عاجزی سے اس کے رحم کی ضرور درخواست کرتے ہیں اور اس بندہ کی نہایت بدذاتی ہے جو خدا سے اُس کے کاروبار کے متعلق جو اس بندہ کی نسبت خدا تعالیٰ کرتا ہے انصاف کا مطالبہ کرے۔جبکہ انسانی فطرت کا سب تار و پود خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تمام قومی روحانی جسمانی اُسی کی عطا کردہ ہیں اور اُسی کی توفیق اور تائید سے ہر ایک اچھا عمل ظہور میں آ سکتا ہے تو اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے اُس سے انصاف کا مطالبہ کرنا سخت بے ایمانی اور جہالت ہے۔اور ایسی تعلیم کو ہم وڈیا کی تعلیم نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ تعلیم بچے گیان سے بالکل محروم اور سراسر حماقت سے بھری ہوئی تعلیم ہے سو ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو قرآن شریف ہے یہی سکھایا ہے کہ بندہ کے مقابل پر خدا کا نام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ کفر صریح ہے۔(چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲ تا ۳۴) یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزادی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ در گذر کی جائے یہ ایک ایسا دھوکا ہے کہ جس میں قلتِ تدبر سے کو نہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے۔تو اس سے اس کی