اللہ تعالیٰ — Page 80
۸۰ جل شانہ و عزاسمہ پائے گا۔پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں۔کیونکہ اس شر سے وہ شتر مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور تو بہ نہ کرے۔اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے۔نہ ذنب کا تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور تو بہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔جیسا کہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ لا یعنی تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور نیز ان لوگوں سے پیار کرتا ہے کہ جو اس بات پر زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح گناہ سے پاک ہو جائیں۔غرض ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگذر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اُس نے قرآن شریف کی پہلی سورۃ میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے۔اور فرمایا کہ ملِكِ يَوْمِ الدین لا یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے۔اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو۔یعنی چاہے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳، ۲۴) پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ آریوں کے اصول کی رُو سے اُن کے پرمیشر کا نام مالک ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کہ بغیر کسی کے حق واجب کے اس کو بطور ا کرام انعام کچھ دے سکے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی مال کا مالک ہوتا ہے وہ اختیار رکھتا ہے کہ جس قدر اپنے پاس سے چاہے کسی کو دے دے۔مگر پر میشر کی نسبت آریوں کا یہ اصول ہے کہ نہ وہ گناہ بخش سکتا ہے اور نہ جو دو عطا کے طور پر کسی کو وہ کچھ دے سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرے تو اس سے بے انصافی لازم البقرة : ۲۲۳ ٣ الفاتحة : ۴