اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 67

۶۷ جل شانہ و عزاسمہ اس میں کلام کی جگہ نہیں کہ جو کچھ اجرام فلکی اور عناصر میں جسمانی اور فانی طور پر صفات پائی جاتی ہیں وہ روحانی اور ابدی طور پر خدا تعالیٰ میں موجود ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے یہ بھی ہم پر کھول دیا ہے کہ سورج وغیرہ بذات خود کچھ چیز نہیں ہیں۔یہ اسی کی طاقت زبردست ہے جو پردہ میں ہر ایک کام کر رہی ہے۔وہی ہے جو چاند کو پردہ پوش اپنی ذات کا بنا کر اندھیری راتوں کو روشنی بخشتا ہے جیسا کہ وہ تاریک دلوں میں خود داخل ہو کر اُن کو منور کر دیتا ہے اور آپ انسان کے اندر بولتا ہے۔وہی ہے جو اپنی طاقتوں پر سورج کا پردہ ڈال کر دن کو ایک عظیم الشان روشنی کا مظہر بنادیتا ہے اور مختلف فصلوں میں مختلف اپنے کام ظاہر کرتا ہے۔اُسی کی طاقت آسمان سے برستی ہے جو مینہ کہلاتی ہے اور خشک زمین کو سرسبز کر دیتی ہے اور پیاسوں کو سیراب کر دیتی ہے۔اُسی کی طاقت آگ میں ہو کر جلاتی ہے اور ہوا میں ہو کر دم کو تازہ کرتی اور پھولوں کو شگفتہ کرتی اور بادلوں کو اٹھاتی اور آواز کو کانوں تک پہنچاتی ہے۔یہ اُسی کی طاقت ہے کہ زمین کی شکل میں مجسم ہو کر نوع انسان اور حیوانات کو اپنی پشت پر اٹھا رہی ہے۔مگر کیا یہ چیزیں خدا ہیں؟ نہیں بلکہ مخلوق مگر ان کے اجرام میں خدا کی طاقت ایسے طور سے پیوست ہو رہی ہے کہ جیسے قلم کے ساتھ ہاتھ ملا ہوا ہے۔اگر چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قلم لکھتی ہے مگر قلم نہیں لکھتی بلکہ ہاتھ لکھتا ہے یا مثلاً ایک لوہے کاٹکڑا جو آگ میں پڑ کر آگ کی شکل میں بن گیا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جلاتا ہے اور روشنی بھی دیتا ہے۔مگر دراصل وہ صفات اس کی نہیں بلکہ آگ کی ہیں۔اسی طرح تحقیق کی نظر سے یہ بھی سچ ہے کہ جس قدر اجرام فلکی و عناصر ارضی بلکہ ذرہ ذرہ عالم سفلی اور علوی کا مشہود اور محسوس ہے یہ سب باعتبار اپنی مختلف خاصیتوں کے جو اُن میں پائی جاتی ہیں خدا کے نام ہیں اور خدا کی صفات ہیں اور خدا کی طاقت ہے جو ان کے اندر پوشیدہ طور پر جلوہ گر ہے اور یہ سب ابتدا میں اس کے کلمے تھے جو اس کی قدرت نے ان کو مختلف رنگوں میں ظاہر کر دیا۔نادان سوال کرے گا کہ خدا کے کلمے کیونکر مجسم ہوئے۔کیا خدا ان کے علیحدہ ہونے سے کم ہو گیا۔