اللہ تعالیٰ — Page 2
جل شانہ و عزاسمہ سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تاسُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱، ۲۲) خدا آسمان وزمین کا نور ہے۔یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی اُسی کے فیض کا عطیہ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔اُسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیر وزبر کی پناہ ہے۔وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار قصص - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۹۱ ۱۹۲ حاشیہ نمبر۱۱) اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینہ قانون قدرت اور صحیفہ فطرت سے نظر آ رہا ہے۔اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کانشنس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے۔تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۱۴۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۲ بار دوم ) اس قادر اور نیچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک رُوح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قومی کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے۔اور کوئی چیز نہ اوس کے علم سے باہر ہے اور نہ اس کے تصرف سے نہ اس کے خلق سے۔اور ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں