اللہ تعالیٰ — Page 1
1 اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ وہ خدا جو تمام نبیوں پر ظاہر ہوتارہا اور حضرت موسی کلیم اللہ پر بمقام طور ظاہر ہوا اور حضرت مسیح پر شعیر کے پہاڑ پر طلوع فرمایا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فاران کے پہاڑ پر چمکا وہی قادر قدوس خدا میرے پر تجلی فرما ہوا ہے۔اُس نے مجھ سے باتیں کیں اور مجھے فرمایا کہ وہ اعلیٰ وجود جس کی پرستش کے لئے تمام نبی بھیجے گئے میں ہوں۔میں اکیلا خالق اور مالک ہوں اور کوئی میرا شریک نہیں۔اور میں پیدا ہونے اور مرنے سے پاک (ضمیمہ رسالہ جہاد۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۹) ہوں۔وہ پاک زندگی جو گناہ سے بچ کر ملتی ہے وہ ایک لعلِ تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے ہاں خدا تعالیٰ نے وہ لعل تاباں مجھے دیا ہے اور مجھے اُس نے مامور کیا ہے کہ میں دنیا کو اس لعلِ تاباں کے حصول کی راہ بتا دوں۔اس راہ پر چل کر میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص یقینا یقینا اس کو حاصل کرلے گا اور وہ ذریعہ اور وہ راہ جس سے یہ ملتا ہے ایک ہی ہے جس کو خدا کی سچی معرفت کہتے ہیں۔در حقیقت یہ مسئلہ بڑا مشکل اور نازک مسئلہ ہے۔کیونکہ ایک مشکل امر پر موقوف ہے۔فلاسفر جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ ومحکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتا تا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہئے مگر میں اس سے بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربوں کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا ہے۔الحکم مورخہ ۱۷ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۳، ۴۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف