اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 53

۵۳ جل شانہ و عزاسمہ لئے خدائے غیور نہیں کرتا کہ اس اپنے دوست کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا بے عزت اور ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ تا دنیا کو اپنے نشان دکھاوے اور تا شوخ دیدہ مخالفوں کو معلوم ہو کہ انہوں نے دشمنی میں ناخنوں تک زور لگا کر نقصان کیا پہنچایا۔نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۱۸،۵۱۷) قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے اسماء مفعول کے لفظ میں نہیں جیسے قدو س تو ہے مگر معصوم نہیں لکھا کیونکہ پھر بچانے والا اور ہوگا۔(الحکم، مورخہ ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۷ ۱۴۴ یڈیشن ۲۰۰۳ء) ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذرات اجسام وہ خدا سے غافل ہیں ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں اور ترقیات سے نئی نئی روح وہ ہم میں پھونکتا ہے اگر وہ نیست سے ہست کرنے والا نہ ہوتا تو ہم تو زندہ ہی مرجاتے۔عجیب ہے وہ خدا جو ہمارا خدا ہے کون ہے جو اس کی مانند ہے؟ اور عجیب ہیں اس کے کام۔کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔وہ قادر مطلق ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳۵) در حقیقت نفی صفات الہی کی کرنا اور خدا تعالیٰ کو قادرانہ تصرف سے معطل سمجھنا یہی اصل موجب دیوتا پرستی اور تناسخ کا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ اپنے مدبرانہ کاموں سے معطل خیال کیا گیا تو حاجت براری کے لئے دیو تے گھڑے گئے اور تقدیری تغیرات اور انقلابات کو گذشتہ عملوں کا نتیجہ ٹھہرایا گیا سو اس ایک ہی خیال سے یہ دونوں خرابیاں پیدا ہو گئیں یعنی اوا گون اور دیوتا پرستی۔هحبه حق - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۰۸،۴۰۷) قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے در ثمین متفرق اشعار صفحه ۱۵۸ شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمد یہ ربوہ)