اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 52

۵۲ جل شانہ و عزاسمہ بیان فرمایا گیا ہے اور اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے ایک انسان گورنمنٹ کا ایک قانون یاد کرنے میں محنت اور جد و جہد کر کے امتحان دے اور پھر اس میں پاس ہو جائے۔پس رحیمیت کے اثر سے کسی کامیابی کے لئے استحقاق پیدا ہو جانا پاس ہو جانے سے مشابہ ہے اور پھر وہ چیز یاوہ مرتبہ میسر آ جانا جس کے لئے پاس ہوا تھا اس حالت سے مشابہ انسان کے فیض پانے کی وہ حالت ہے جو پر توہ صفت مالکیت یوم الدین سے حاصل ہوتی ہے۔ان دونوں صفتوں رحیمیت اور مالکیت یوم الدین میں یہ اشارہ ہے کہ فیض رحیمیت خدا تعالیٰ کے رحم سے حاصل ہوتا ہے اور فیضِ مالکیت یوم الدین خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے اور مالکیت یوم الدین اگر چه وسیع اور کامل طور پر عالم معاد میں متجلی ہو گی مگر اس عالم میں بھی اس عالم کے دائرہ کے موافق یہ چاروں صفتیں مجتبی کر رہی ہیں۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۷ ۲۴ تا ۲۵۱) خدا تعالیٰ دنیا میں تین قسم کے کام کیا کرتا ہے۔(۱) خدائی کی حیثیت سے (۲) دوسری دوست کی حیثیت سے (۳) تیسرے دشمن کی حیثیت سے۔جو کام عام مخلوقات سے ہوتے ہیں وہ محض خدائی حیثیت سے ہوتے ہیں۔اور جو کام محبین اور محبوبین سے ہوتے ہیں وہ نہ صرف خدائی حیثیت سے بلکہ دوستی کی حیثیت کا رنگ ان پر غالب ہوتا ہے۔اور صریح دنیا کومحسوس ہوتا ہے کہ خدا اوس شخص کی دوستانہ طور پر حمایت کر رہا ہے۔اور جو کام دشمنوں کی حیثیت سے ہوتے ہیں اُن کے ساتھ ایک موذی عذاب ہوتا ہے اور ایسے نشان ظاہر ہوتے ہیں جن سے صریح دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس قوم یا اس شخص سے دشمنی کر رہا ہے اور خدا جو اپنے دوست کے ساتھ کبھی یہ معاملہ کرتا ہے جو تمام دنیا کو اس کا دشمن بنا دیتا ہے اور کچھ مدت کے لئے ان کی زبانوں یا اُن کے ہاتھوں کو اُس پر مسلط کر دیتا ہے یہ اس