اللہ تعالیٰ — Page 51
۵۱ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ جمادات اور اجرام ارضی اور سماوی کو فیض رسان ہے اور کوئی چیز اس کے فیض سے باہر نہیں بر خلاف صفت رحیمیت کے کہ وہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے اور اگر انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے فیض رسانی کی چار صفت اپنی ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیت کو جو انسان کی دعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح مل نہیں سکتا ۔ یہ سنت اللہ اور قانون الہی ہے جس میں تخلف جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی اُمتوں کے لئے ہمیشہ دعائیں مانگتے رہے۔ توریت میں دیکھو کہ کتنی دفعہ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے عذاب کے قریب پہونچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور تضرع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیا حالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ میں ان کو ہلاک کروں گا ۔ اب ان تمام واقعات سے ظاہر ہے کہ دُعا محض لغو ا مر نہیں ہے اور نہ صرف ایسی عبادت جس پر کسی قسم کا فیض نازل نہیں ہوتا۔ یہ ان لوگوں کے خیال ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کا وہ قدر نہیں کرتے جو حق قدر کرنے کا ہے اور نہ خدا کی کلام کو نظر عمیق سے سوچتے ہیں اور نہ قانون قدرت پر نظر ڈالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دُعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے اسی کا نام فیض رحیمیت ہے جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔ اسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گویا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے مسئلہ شفاعت بھی صفت رحیمیت کی بناء پر ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحیمیت نے ہی تقاضا کیا کہ اچھے آدمی بڑے آدمیوں کی شفاعت کریں۔ چوتھا احسان خدا تعالیٰ کا جو قسم چہارم کی خوبی ہے جس کو فَيْضَانِ اَخصَ سے موسوم کر سکتے ہیں مالکیت یوم الدین ہے جس کو سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین میں