اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 50

۵۰ جل شانہ و عزاسمہ اس کو عطا کئے اور پھر اس کی بقاء کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ اس کے لئے مہیا کیں۔پرندوں کے لئے پرندوں کے مناسب حال اور چرندوں کے لئے چرندوں کے مناسب حال اور انسان کے لئے انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کیں۔اور صرف یہی نہیں بلکہ ان چیزوں کے وجود سے ہزار ہا برس پہلے بوجہ اپنی صفت رحمانیت کے اجرامِ سماوی وارضی کو پیدا کیا تاوہ ان چیزوں کے وجود کی محافظ ہوں۔پس اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت میں کسی کے عمل کا دخل نہیں بلکہ وہ رحمت محض ہے جس کی بنیاد ان چیزوں کے وجود سے پہلے ڈالی گئی۔ہاں انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔اس لئے انسان کو یاد دلایا گیا کہ تمہارا خدا رحمن ہے۔تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو تیسرے درجے کا احسان ہے رحیمیت ہے۔جس کو سورہ فاتحہ میں الرحیم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رُو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییع اعمال سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے۔یہ احسان دوسرے لفظوں میں فیض خاص سے موسوم ہے اور صرف انسان کی نوع سے مخصوص ہے۔دوسری چیزوں کو خدا نے دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ نہیں دیا مگر انسان کو دیا ہے۔انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نطق کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا فیض پا سکتا ہے۔دوسری چیزوں کو نطق عطا نہیں ہوا۔پس اس جگہ سے ظاہر ہے کہ انسان کا دُعا کرنا اُس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات ربوبیت اور رحمانیت سے فیض حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح صفت رحیمیت سے بھی ایک فیض حاصل ہوتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ ربوبیت اور رحمانیت کی صفتیں دعا کو نہیں چاہتیں کیونکہ وہ دونوں صفات انسان سے خصوصیت نہیں رکھتیں اور تمام پرند چرند کو اپنے فیض سے مستفیض کر رہی ہیں بلکہ صفت ربوبیت تو تمام حیوانات اور نباتات اور