اللہ تعالیٰ — Page 48
۴۸ جل شانہ و عزاسمہ سکتا۔کی سڑی ہوئی بد بو اس سے آتی ہے۔مگر وہ شخص جس کو یہ نور دیا گیا ہے اور جس کے اندر یہ چشمہ پھوٹ نکلا ہے اس کی علامات سے یہ ایک علامت ہے کہ اس کا جی ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ ہر یک بات میں اور ہر یک قول میں اور ہر یک فعل میں خدا سے قوت پاوے اِسی میں اس کی لذت ہوتی ہے اور اسی میں اس کی راحت ہوتی ہے۔وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں ( عصمت انبیاء علیہم السلام۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۶۸ تا ۶۷۱ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن) کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے ایک کمال حسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں۔اور روح کے جوش اور کشش سے اس کی بندگی کریں۔اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔سواسی غرض سے اس سورۃ کو اَلْحَمْدُ لِلہ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اس کی ذات میں نہ ہو۔قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جائیں۔پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔اسی حسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں کا نام نور ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے۔اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ یعنی زمین و آسمان کا نور ہے ہر ایک نور اُسی کے نور کا پر توہ ہے۔النور : ٣٦