اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 39

۳۹ جل شانہ و عزاسمہ دوسرے اس صداقت میں اس امر کا کھلنا مطلوب ہے کہ اسباب عادیہ کچھ چیز نہیں ہیں اور فاعل حقیقی خدا ہے اور وہی ایک ذات عظمی ہے کہ جو جمیع فیوض کا مبدء اور ہر یک جزا سزا کا مالک ہے۔تیسرے اس صداقت میں اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ سعادت عظمی اور شقاوتِ عظمی کیا چیز ہے۔یعنی سعادت عظمیٰ وہ فوز عظیم کی حالت ہے کہ جب نور اور سرور اور لذت اور راحت انسان کے تمام ظاہر و باطن اور تن اور جان پر محیط ہو جائے اور کوئی عضو اور قوت اس سے باہر نہ رہے۔اور شقاوت عظمیٰ وہ عذاب الیم ہے کہ جو باعث نافرمانی اور ناپاکی اور بعد اور ڈوری کے دلوں سے مشتعل ہو کر بدنوں پر مستولی ہو جائے اور تمام وجود فی النَّارِ وَالسَّقَر معلوم ہو اور یہ تجلیات عظمیٰ اس عالم میں ظاہر نہیں ہوسکتیں کیونکہ اس تنگ اور منقبض اور مکدر عالم کو جور و پوش اسباب ہو کر ایک ناقص حالت میں پڑا ہے ان کے ظہور کی برداشت نہیں بلکہ اس عالم پر ابتلا اور آزمائش غالب ہے۔اور اس کی راحت اور رنج دونوں نا پائیدار اور ناقص ہیں اور نیز اس عالم میں جو کچھ انسان پر وارد ہوتا ہے وہ زیر پردہ اسباب ہے جس سے مالک الجزاء کا چہرہ مجوب اور مکتوم ہورہا ہے اس لئے یہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الجزاء نہیں ہوسکتا بلکہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الدین یعنی یوم الجزاء وہ عالم ہو گا کہ جو اس عالم کے ختم ہونے کے بعد آوے گا۔اور وہی عالمِ تجلیاتِ عظمی کا مظہر اور جلال اور جمال کے پوری ظہور کی جگہ ہے۔اور چونکہ یہ عالم دنیوی اپنی اصل وضع کی رُو سے دار الجزاء نہیں بلکہ دارالا بتلاء ہے اس لئے جو کچھ ٹھسر وئیسر وراحت و تکلیف اور غم اور خوشی اس عالم میں لوگوں پر وارد ہوتی ہے اُس کو خدائے تعالیٰ کے لطف یا قہر پر دلالت قطعی نہیں۔مثلاً کسی کا دولت مند ہو جانا اس بات پر دلالت قطعی نہیں کرتا کہ خدائے تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ کسی کا مفلس اور نادار ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اُس پر ناراض ہے۔بلکہ یہ دونوں طور کے ابتلاء ہیں تا دولتمند کو