اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 38

۳۸ جل شانہ و عزاسمہ معنے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بداُن سب کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے ان کی تکمیل کے لئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کے رُو سے ہر یک قسم کے اسباب مطلوبہ میٹر کر دیئے ہیں اور ہمیشہ میٹر کرتا رہتا ہے۔اور یہ عطیہ محض ہے کہ جو کسی عامل کے عمل پر موقوف نہیں۔تیسری صداقت رحیم ہے کہ جو بعد رحمن کے مذکور ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ سعی کرنے والوں کی سعی پر بمقتضائے رحمت خاصہ ثمراتِ حسنہ مترتب کرتا ہے۔تو بہ کرنے والوں کے گناہ بخشتا ہے۔مانگنے والوں کو دیتا ہے۔کھٹکھٹانے والوں کے لئے کھولتا ہے۔چوتھی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے مالک یوم الدین ہے یعنی با کمال و کامل جزا سزا کہ جو ہر یک قسم کے امتحان و ابتلا اور توسط اسباب غفلت افتر ا سے منزہ ہے اور ہر یک کدورت اور کثافت اور شک اور شبہ اور نقصان سے پاک ہے اور تجلیات عظمی کا مظہر ہے اس کا مالک بھی وہی اللہ قادر مطلق ہے اور وہ اس بات سے ہرگز عاجز نہیں کہ اپنی کامل جزا کو جو دن کی طرح روشن ہے ظہور میں لاوے اور اس صداقت عظمی کے ظاہر کرنے سے حضرت احدیت کا یہ مطلب ہے کہ تاہر یک نفس پر بطور حق الیقین امور مفصلہ ذیل کھل جائیں۔اول یہ امر کہ جزا سزا ایک واقعی اور یقینی امر ہے کہ جو مالک حقیقی کی طرف سے اور اُسی کے ارادہ خاص سے بندوں پر وارد ہوتا ہے۔اور ایسا کھل جانا دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ اس عالم میں یہ بات عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی کہ جو کچھ خیر وشر وراحت و رنج پہنچ رہا ہے وہ کیوں پہنچ رہا ہے اور کس کے حکم اور اختیار سے پہنچ رہا ہے اور کسی کو ان میں سے یہ آواز نہیں آتی کہ وہ اپنی جزا پا رہا ہے اور کسی پر بطور مشہود ومحسوس منکشف نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ بھگت رہا ہے حقیقت میں وہ اس کے عملوں کا بدلہ ہے۔