اللہ تعالیٰ — Page 37
۳۷ جل شانہ و عزاسمہ ساتھ عالم کے ذرہ ذرہ پر متصرف اور حکمران ہے اور اس کی ربوبیت ہر وقت کام میں لگی ہوئی ہے۔یہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ دنیا کو بنا کر اس کے انتظام سے الگ ہو بیٹھا ہے اور اُسے نیچر کے قاعدہ کے ایسا سپر د کیا ہے کہ خود کسی کام میں دخل بھی نہیں دیتا۔اور جیسے کوئی گل بعد بنائے جانے کے پھر بنانے والے سے بے علاقہ ہو جاتی ہے ایسا ہی مصنوعات صانع حقیقی سے بے علاقہ ہیں بلکہ وہ رب العالمین اپنی ربوبیت تامہ کی آبپاشی ہر وقت برابر تمام عالم پر کر رہا ہے اور اس کی ربوبیت کا مینہ بالا تصال تمام عالم پر نازل ہو رہا ہے اور کوئی ایسا وقت نہیں کہ اس کے رفح فیض سے خالی ہو بلکہ عالم کے بنانے کے بعد بھی اُس مبدء فیوض کی فی الحقیقت بلا ایک ذرہ تفاوت کے ایسی ہی حاجت ہے کہ گویا ابھی تک اُس نے کچھ بھی نہیں بنایا اور جیسا دنیا اپنے وجود اور نمود کے لئے اُس کی ربوبیت کی محتاج تھی ایسا ہی اپنے بقا اور قیام کے لئے اس کی ربوبیت کی حاجت مند ہے۔وہی ہے جو ہر دم دنیا کو سنبھالے ہوئے ہے اور دنیا کا ہر ذرہ اُسی سے تروتازہ ہے اور وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے موافق ہر چیز کی ربوبیت کر رہا ہے۔یہ نہیں کہ بلا ارادہ کسی شے کے ربوبیت کا موجب ہو۔غرض آیات قرآنی کی رُو سے جن کا خلاصہ ہم بیان کر رہے ہیں اس صداقت کا یہ منشا ہے کہ ہر یک چیز کہ جو عالم میں پائی جاتی ہے وہ مخلوق ہے اور اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور اپنے تمام اوقات میں خدائے تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے اور کوئی روحانی یا جسمانی ایسا کمال نہیں ہے جس کو کوئی مخلوق خود بخود اور بغیر ارادہ خاص اُس متصرف مطلق کے حاصل کر سکتا ہواور نیز حسب توضیح اسی کلام پاک کے اس صداقت اور ایسا ہی دوسری صداقتوں میں یہ معنے بھی ملحوظ ہیں کہ رب العالمین وغیرہ صفتیں جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں یہ اُسی کی ذات واحد لاشریک سے خاص ہیں اور دوسرا کوئی ان میں شریک نہیں جیسا کہ اس سورۃ کے پہلے فقرہ میں یعنی اَلْحَمْدُ لِلہ میں یہ بیان ہو چکا ہے کہ تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں۔دوسری صداقت رحمن ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا۔اور رحمن کے