اللہ تعالیٰ — Page 36
۳۶ جل شانہ و عزاسمہ اسی کا نام ہے کہ جو صحیفہ فطرت میں ترتیب ہو وہی ترتیب صحیفہ الہام میں بھی ملحوظ رہے کیونکہ کلام میں ترتیب قدرتی کو منقلب کرنا گویا قانون قدرت کو منقلب کرنا ہے اور نظام طبعی کو الٹا دینا ہے۔کلام بلیغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ نظام کلام کا نظام طبعی کے ایسا مطابق ہو کہ گویا اُسی کی عکسی تصویر ہو اور جو امر طبعاً اور وقوعاً مقدم ہو اس کو وضعاً بھی مقدم رکھا جائے۔سو آیت موصوفہ میں یہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے کہ باوجود کمال فصاحت اور خوش بیانی کے واقعی ترتیب کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور وہی طرز بیان اختیار کی ہے جو کہ ہر یک صاحب نظر کو نظام عالم میں بدیہی طور پر نظر آ رہی ہے کیا یہ نہایت سیدھا راستہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے نعماء الہی صحیفۂ فطرت میں واقعہ ہیں اُسی ترتیب سے صحیفہ الہام میں بھی واقع ہوں۔سوایسی عمدہ اور پر حکمت ترتیب پر اعتراض کرنا حقیقت میں انہی اندھوں کا کام ہے جن کی بصیرت اور بصارت دونوں یکبارگی جاتی رہی ہیں۔چشم بد اندیش که برکنده باد عیب نماید هنرش در نظر اب ہم پھر تقریر کو دوہرا کر اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ نے سورة ممدوحہ میں رَبُّ العَالَمِین کی صفت سے لے کر مَالِكِ يَومِ الدّین تک بیان فرمایا ہے۔یہ حسب تصریحات قرآن شریف چار عالی شان صداقتیں ہیں جن کا اس جگہ کھول کر بیان کرنا قرین مصلحت ہے۔پہلی صداقت یہ کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی عالم کے اشیاء میں سے جو کچھ موجود ہے سب کا رب اور مالک خدا ہے۔اور جو کچھ عالم میں نمودار ہو چکا ہے اور دیکھا جاتا ہے یا ٹولا جاتا ہے یا عقل اس پر محیط ہوسکتی ہے وہ سب چیزیں مخلوق ہی ہیں اور ہستی حقیقی بجز ایک ذات حضرت باری تعالیٰ کے اور کسی چیز کے لئے حاصل نہیں۔غرض عالم بجميع اجزائہ مخلوق اور خدا کی پیدائش ہے۔اور کوئی چیز اجزائے عالم میں سے ایسی نہیں کہ جو خدا کی پیدائش نہ ہو اور خدائے تعالیٰ اپنی ربوبیت تامہ کے بدخواہ کی آنکھ کہ خدا کرے پھوٹ جائے اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتا ہے۔