اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 35

۳۵ جل شانہ و عزاسمہ چنانچہ اسی کی طرف دوسری جگہ بھی اشارہ فرما کر کہا ہے لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ لا یعنی اس دن ربوبیت الہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تحلبی آپ دکھلائے گی اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجر قوت عظمیٰ اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالیٰ کے اور سب بیچ ہیں۔تب سارا آرام و سرور اور سب جزا اور پاداش بنظر صاف و صریح خدا ہی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پردہ اور حجاب درمیان میں نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی۔تب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کر لیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہو گا کہ جو اس سعادت عظمی کے پانے سے بے نصیب رہا ہو اور اس جگہ مالک یوم الدین کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس روز راحت یا عذاب اور لذت یا درد جو کچھ بنی آدم کو پہنچے گا اس کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی ذات ہوگی اور مالک امر مجازات کا حقیقی طور پر وہی ہوگا یعنی اسی کا وصل یا فصل سعادت ابدی یا شقاوت ابدی کا موجب ٹھہرے گا۔اس طرح پر کہ جولوگ اس کی ذات پر ایمان لائے تھے اور توحید اختیار کی تھی اور اس کی خالص محبت سے اپنے دلوں کو رنگین کر لیا تھا اُن پر انوار رحمت اُس ذاتِ کامل کے صاف اور آشکار ا طور پر نازل ہوں گے اور جن کو ایمان اور محبت الہیہ حاصل نہیں ہوئی وہ اس لذت اور راحت سے محروم رہیں گے اور عذاب آلیم میں مبتلا ہو جا ئیں گے۔یہ فیوض اربعہ ہیں جن کو ہم نے تفصیل وار لکھ دیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ صفت رحمن کو صفت رحیم پر مقدم رکھنا نہایت ضروری اور مقتضائے بلاغت کا ملہ ہے کیونکہ صحیفۂ قدرت پر جب نظر ڈالی جائے تو پہلے پہل خدائے تعالیٰ کی عام ربوبیت پر نظر پڑتی ہے۔پھر اس کی رحمانیت پر۔پھر اس کی رحیمیت پر۔پھر اُس کے مالک یوم الدین ہونے پر اور کمال بلاغت المؤمن : ۱۷