اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 31

٣١ جل شانہ و عزاسمہ ۲۹۔یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اُڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ باز و کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں۔رحمن ہی ہے کہ ان کو گرنے سے تھام رکھتا ہے۔یعنی فیضانِ رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہورہا ہے کہ پرندے بھی جو ایک پیسہ کے دو تین مل سکتے ہیں وہ بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر رہے ہیں۔اور چونکہ ربوبیت کے بعد اسی فیضان کا مرتبہ ہے اس جہت سے نے سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کی صفت بیان فرما کر پھر اس کے رحمن ہونے کی صفت بیان فرمائی تا ترتیب طبیعی ان کی ملحوظ رہے۔تیسری قسم فیضان کی فیضانِ خاص ہے۔اس میں اور فیضان عام میں یہ فرق ہے کہ فیضان عام میں مستفیض پر لازم نہیں کہ حصول فیض کے لئے اپنی حالت کو نیک بناوے اور اپنے نفس کو حجب ظلمانیہ سے باہر نکالے یا کسی قسم کا مجاہدہ اور کوشش کرے۔بلکہ اس فیضان میں جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر ایک ذی روح کو اُس کی ضروریات جن کا وہ حسب فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیا کر دیتا ہے لیکن فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیۂ قلب اور دُعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقع ہو شرط ہے۔اور اس فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے۔اور اُسی پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے۔اور اس فیضان کا وجود بھی ملاحظہ قانون قدرت سے ثابت ہے کیونکہ یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ خدا کی راہ میں سعی کرنے والے اور غافل رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔بلا شبہ جولوگ دل کی سچائی سے خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں۔اور ہر یک تاریکی اور فساد سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔اس فیضان کے رُو سے خدائے تعالیٰ کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط بشرائط ہونے کے مرتبہ صفت رحمانیت سے مؤخر ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی