اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 29

۲۹ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ طور پر ذی روحوں کے آرام کے لئے ظہور پذیر ہو رہا ہے یہ عطیہ بلا استحقاق ہے جو کسی عمل کے عوض میں نہیں فقط ربانی رحمت کا ایک جوش ہے تاہر یک جاندار اپنے فطرتی مطلوب کو پہنچ جائے اور جو کچھ اس کی فطرت میں حاجتیں ڈالی گئیں وہ پوری ہو جائیں۔ پس اس فیضان میں عنایت از لیہ کا کام یہ ہے کہ انسان اور جم انسان اور جمیع حیوانات کی ضروریات کا تعہد کرے اور ان کی بائسیت اور نا باکسیت کی خبر رکھے تا وہ ضائع نہ ہو جائیں اور ان کی استعداد یں حیز کتمان میں نہ رہیں ۔ اور اس صفت فیضانی کا خدائے تعالیٰ کی ذات میں پایا جانا قانون قدرت کے ملاحظہ سے نہایت بدیہی طور پر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس میں کلام نہیں کہ جو کچھ چاند اور سورج اور زمین اور عنا صر وغیرہ ضروریات دنیا میں پائی جاتی ہیں جن پر تمام ذی روحوں کی زندگی کا مدار ہے اسی فیضان کے اثر سے ظہور پذیر ہیں اور ہر یک متنفس بلا تمیز انسان و حیوان و مومن و کافرونیک و بد حسب حاجت اپنے ان فیوض مذکورہ بالا سے مستفیض ہو رہا ہے اور کوئی ذی روح اس سے محروم نہیں ۔ اور اس فیضان کا نام قرآن شریف میں رحمانیت ہے اور اسی کے رُو سے خدا کا نام سورہ فاتحہ میں بعد صفت رب العالمین رحمن آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ۔ اسی صفت کی طرف قرآن شریف کے کئی ایک اور مقامات میں بھی اشارہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ منجملہ ان کے یہ ہے:۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا - تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُنِيرًا - وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا - وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سلامًا - یعنی جب کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمن کو سجدہ کرو تو وہ رحمن کے نام سے متنفر ہو کر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے؟ ( پھر بطور الفرقان : ۶۱ :۶۱ تا ۶۴