اللہ تعالیٰ — Page 28
۲۸ جل شانہ و عزاسمہ خواہ غیر جاندارمشتمل ہے۔پھر دوسراقم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقعہ ہے فیضان عام ہے۔اس میں اور فیضانِ اعم میں یہ فرق ہے کہ فیضان اعم تو ایک عام ربوبیت ہے جس کے ذریعہ سے کل کائنات کا ظہور اور وجود ہے اور یہ فیضان جس کا نام فیضانِ عام ہے۔یہ ایک خاص عنایت از لیہ ہے جو جانداروں کے حال پر مبذول ہے۔یعنی ذی روح چیزوں کی طرف حضرت باری کی جو ایک خاص توجہ ہے۔اس کا نام فیضان عام ہے اور اس فیضان کی یہ تعریف ہے کہ یہ بلا استحقاق اور بغیر اس کے کہ کسی کا کچھ حق ہو سب ذی روحوں پر حسب حاجت ان کے جاری ہے۔کسی کے عمل کا پاداش نہیں اور اسی فیضان کی برکت سے ہر یک جاندار جیتا، جاگتا، کھاتا، پیتا اور آفات سے محفوظ اور ضروریات سے متمتع نظر آتا ہے۔اور ہر یک ذی روح کے لئے تمام اسباب زندگی کے جو اس کے لئے یا اُس کے نوع کے بقا کے لئے مطلوب ہیں میٹر نظر آتے ہیں اور یہ سب آثار اسی فیضان کے ہیں کہ جو کچھ رُوحوں کو جسمانی تربیت کے لئے درکار ہے۔سب کچھ دیا گیا ہے۔اور ایسا ہی جن روحوں کو علاوہ جسمانی تربیت کے روحانی تربیت کی بھی ضرورت ہے یعنی روحانی ترقی کی استعد ادرکھتے ہیں۔اُن کے لئے قدیم سے عین ضرورتوں کے وقتوں میں کلام الہی نازل ہوتا رہا ہے۔غرض اسی فیضان رحمانیت کے ذریعہ سے انسان اپنی کروڑ ہا ضروریات پر کامیاب ہے۔سکونت کے لئے سطح زمین، روشنی کے لئے چاند اور سورج ، دم لینے کے لئے ہوا، پینے کے لئے پانی، کھانے کے لئے انواع اقسام کے رزق اور علاج امراض کے لئے لاکھوں طرح کی ادویہ۔اور پوشاک کے لئے طرح طرح کی پوشیدنی چیزیں اور ہدایت پانے کے لئے صحف ربانی موجود ہیں۔اور کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ تمام چیزیں میرے عملوں کی برکت سے پیدا ہو گئی ہیں اور میں نے ہی کسی پہلے جنم میں کوئی نیک عمل کیا تھا جس کی پاداش میں یہ بے شمار نعمتیں خدا نے بنی آدم کو عنایت کیں۔پس ثابت ہے کہ یہ فیضان جو ہزار با