اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 27

۲۷ جل شانہ و عزاسمہ سورۃ فاتحہ میں نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔یعنی رب العالمین۔رحمن "۔رحیم۔مالک یوم الدین اور ان چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمن کو ذکر کیا۔پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب سے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔پس سمجھنا چاہئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا پر خدا کا چار طور پر فیضان پایا جاتا ہے جو غور کرنے سے ہر یک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے۔پہلا فیضان فیضانِ اعم ہے۔یہ وہ فیضانِ مطلق ہے کہ جو بلاتمیز ذی روح وغیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر عَلَی الْاِتصال جاری ہے اور ہر یک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندار اس سے باہر نہیں۔اسی سے وجود تمام ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہر یک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے۔اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے اور اگر نہ ہوتا تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے اور اسی کے رو سے خدا کا نام رَبُّ الْعَلَمِینَ ہے جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ الجز ونمبر ۸ یعنی خدا ہر یک چیز کا رب ہے اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے باہر نہیں۔سوخدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفات فیضانی میں سے پہلے صفت رب العالمین کو بیان فرمایا۔اور کہا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔یہ اس لئے کہا کہ سب فیضانی صفتوں میں سے تقدم طبعی صفت ربوبیت کو حاصل ہے۔یعنی ظہور کے رُو سے یہی صفت مقدم الظہو ر اور تمام صفات فیضانی سے اہم ہے۔کیونکہ ہر یک چیز پر خواہ جاندار ہو الانعام : ۱۶۵