اللہ تعالیٰ — Page 26
کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔۲۶ جل شانہ و عزاسمہ اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۲ تا ۳۷۶) خدا تعالیٰ کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُم االصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے۔اور وہ چار صفتیں ایہ ہیں۔ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت ، مالکیت یوم الدین۔(۱) ربوبیت۔اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرایۂ وجود پہنتے ہیں۔(۲) رحمانیت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے یعنی اس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔(۳) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔(۴) مالکیت یوم الدین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامنِ افلاس پھیلاتے ہیں اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔یہ چارالہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے کسی کا حق نہیں جو دعوے سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۲، ۲۴۳)