اللہ تعالیٰ — Page 25
۲۵ جل شانہ و عزاسمہ کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوسکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہو گا۔کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں لیکن بناوٹی خدا کا ماننے والا بڑی مصیبت میں ہوتا ہے۔وہ بجائے دلائل بیان کرنے کے ہر ایک بے ہودہ بات کو راز میں داخل کرتا ہے تا ہنسی نہ ہو۔اور ثابت شدہ غلطیوں کو چھپانا چاہتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِرُ یعنی وہ سب کا محافظ ہے اور سب پر غالب اور بگڑے ہوئے کاموں کا بنانے والا ہے اور اس کی ذات نہایت ہی مستغنی ہے۔اور فرما یا هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى _ یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اُسی کے نام ہیں اور پھر فرما یا يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں اور پھر فرمایا۔عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيز۔یعنی خدا بڑا قادر ہے۔یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا اُمید رکھیں اور پھر فرمایا۔ربّ الْعَلَمِيْنَ الرَحْمنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ہر ایک پکارنے والے کی پکار کوسنے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔اور پھر فرمایا۔اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس زندگی کے بارے میں بھی دھڑکا رہے گا کہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے اور پھر فرمایا کہ وہ خدا کیلا خدا ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی س کا بیٹا اور نہ کوئی اس