اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 24

۲۴ جل شانہ و عزاسمہ خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیر مادر سمجھ لیتے ہیں مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کیا جائے مگر خدا کو تو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو یا تو وہ کمزور راجوں کی طرح قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا اور یا عادل بن کر خدائی ہی کو الوداع کہتا۔بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ بچے انصاف پر چل رہا ہے۔پھر فرمایا السلام یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور سختیوں سے محفوظ ہے بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔اس کے معنی بھی ظاہر ہیں کیونکہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑتا۔لوگوں کے ہاتھ سے مارا جاتا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہتا تو پھر اس بدنمونہ کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑتے کہ ایسا خدا ہمیں ضرور مصیبتوں سے چھڑ اوے گا۔چنانچہ باطل معبودوں کے بارہ میں فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابِ شَيْئًا لَا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعْفَ الطَّالِب وَالْمَطْلُوب - مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ سورہ حج۔جن لوگوں کو تم خدا بنائے بیٹھے ہو وہ تو ایسے ہیں کہ اگر سب مل کر ایک مکھی پیدا کرنا چاہیں تو کبھی پیدا نہ کر سکیں۔اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں بلکہ اگر مکھی اُن کی چیز چھین کر لے جائے تو انہیں طاقت نہیں ہوگی کہ وہ کبھی سے چیز واپس لے سکیں۔اُن کے پرستار عقل کے کمزور اور وہ طاقت کے کمزور ہیں۔کیا خدا ایسے ہوا کرتے ہیں؟ خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے۔نہ اس کو کوئی پکڑ سکے اور نہ مار سکے۔ایسی غلطیوں میں جو لوگ پڑتے ہیں وہ خدا کی قدر نہیں پہچانتے اور نہیں جانتے خدا کیسا ہونا چاہئے اور پھر فرمایا کہ خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا عَزِيزٌ الحج : ۷۴۷۳