اللہ تعالیٰ — Page 22
۲۲ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ الرَّحِيمُ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبَر هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ الْحَيُّ الْقَيُّوْمَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد - قا یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شائد اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے ۔ اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کا ملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔ پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے اُس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔ ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سرا پا دیکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سرا پا دیکھنے سے قاصر ہیں ۔ پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔ وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا۔ سو وہی خدا M الحشر: ٢٣ الفاتحة: الحشر : ۲۴ الحشر: ۲۵ قا البقرة:٢١ 2 A ق الفاتحة : ٢ تا ٤ البقرة: ۱۸۷ البقرة: ۲۵۶ الاخلاص : ۲ تا ۵