اللہ تعالیٰ — Page 21
۲۱ جل شانہ و عزاسمہ ہمیشہ رحیم ہے اور رہے گا۔میرے نزدیک ایسے عظیم الشان جبروت والے کی نسبت بحث کرنا گناہ میں داخل ہے۔خدا نے کوئی چیز منوانی نہیں چاہی جس کا نمونہ یہاں نہیں دیا۔البدر مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱ کالم نمبر ا۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۷ ۶۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یادر ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغنائے ذاتی کے پر توہ کے نیچے ہوتا ہے۔اور کبھی صفات جمالیہ کا پرتو ہ اس پر پڑتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرماتا ہے کُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔پھر صفات کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائیں گی اور کبھی ان کی تجلی نہیں ہوگی کیونکہ صفات الہیہ کا تعطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی ائم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور عصبیہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔خدا ایک چڑ چڑہ انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ مخواہ عذاب دینے کا شائق ہو اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۰،۳۶۹) جاننا چاہئے کہ جس خدا کی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اُس کی اُس نے یہ صفات لکھی ہیں۔هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَجٍ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ جِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرحمن: ٣٠