اللہ تعالیٰ — Page 20
۲۰ جل شانہ و عزاسمہ اُس نے اپنا یہ اسم بھی ظاہر کیا کہ وہ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور اس کا غضب صرف انہی لوگوں پر بھڑکتا ہے جو ظلم اور شرارت اور معصیت سے باز نہیں آتے۔۔۔اس کی تمام صفات اس کی ذات کے مناسب حال ہیں۔انسان کی صفات کی مانند نہیں۔اور اس کی آنکھ وغیرہ جسم اور جسمانی نہیں اور اس کی کسی صفت کو انسان کی کسی صفت سے مشابہت نہیں۔مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اس کا سرور دُور ہو کر ایک جلن سی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی حالت میں پیدا ہو جاتا ہے۔مگر خدا ان تغیرات سے پاک ہے۔اور اس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے۔لہذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایسا ہی اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیحدہ اور جُدا ہونے سے اس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے۔ایسا ہی اس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر وہ با وجود قریب ہونے کے دُور ہوتا ہے اور باوجود دُور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ T یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۶) خدا کبھی معطل نہیں ہوگا۔ہمیشہ خالق ، ہمیشہ رازق ، ہمیشہ رب ، ہمیشہ رحمان ، الشورى: ۱۲