اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 19

۱۹ جل شانہ و عزاسمہ سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوى عَلَى الْعَرْشِ (ترجمہ) تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا یعنی اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کر کے اور تشبیہی صفات کا ظہور فرما کر پھر تنز یہی صفات کے ثابت کرنے کے لئے مقام تنزہ اور تجرد کی طرف رُخ کیا جو وراء الوراء مقام اور مخلوق کے قرب و جوار سے دُور تر ہے۔وہی بلند تر مقام ہے جس کو عرش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے تو تمام مخلوق حتیز عدم میں تھی اور خدا تعالیٰ وراء الوراء مقام میں اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا جس کا نام عرش ہے۔یعنی وہ مقام جو ہر ایک عالم سے بلند تر اور برتر ہے اور اُسی کا ظہور اور پر تو تھا اور اس کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا۔پھر اس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا۔اور جب مخلوق ظاہر ہوئی تو پھر اس نے اپنے تئیں مخفی کر لیا اور چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ سے شناخت کیا جائے۔مگر یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر تعطل صفات الہیہ کبھی نہیں ہوتا اور بجز خدا کے کسی چیز کے لئے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لئے تعطل دائمی تو نہیں مگر تعطل میعادی کا ہونا ضروری ہے۔اور چونکہ صفت ایجاد اور صفت افتا باہم متضاد ہیں۔اس لئے جب افتا کی صفت کا ایک کامل دور آ جاتا ہے تو صفت ایجاد ایک معیاد تک معطل رہتی ہے۔غرض ابتدا میں خدا کی صفت وحدت کا دور تھا۔اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس دور نے کتنی دفعہ ظہور کیا۔بلکہ یہ دور قدیم اور غیر متناہی ہے۔بہر حال صفت وحدت کے دور کو دوسری صفات پر تقدم زمانی ہے۔پس اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں خدا اکیلا تھا اور اس کے ساتھ کوئی نہ تھا اور پھر خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا۔اور اسی تعلق کی وجہ سے اس نے اپنے یہ اسماء ظاہر کئے کہ وہ کریم اور رحیم ہے اور غفور اور تو بہ قبول کرنے والا ہے۔مگر جو شخص گناہ پر اصرار کرے اور باز نہ آوے اس کو وہ بے سزا نہیں چھوڑتا اور الاعراف: ۵۵