اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 15

۱۵ جل شانہ و عزاسمہ کا اقرار موجود ہے بلکہ ایک ضعیفہ عاجزہ کے پیٹ سے تولد پاکر (بقول عیسائیوں ) وہ ذلّت اور رسوائی اور ناتوانی اور خواری عمر بھر دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بے نصیب کہلاتے ہیں۔اور پھر مدت تک ظلمت خانہ رحم میں قید رہ کر اور اُس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بدر رو ہے پیدا ہو کر ہر ایک قسم کی آلودہ حالت کو اپنے او پر وار د کر لیا اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی جس سے وہ بیٹا باپ کا بد نام کنندہ ملوث نہ ہوا اور پھر اس نے اپنی جہالت اور بے علمی اور بے قدرتی اور نیز اپنے نیک نہ ہونے کا اپنی کتاب میں آپ ہی اقرار کر لیا۔اور پھر درصورتیکہ وہ عاجز بنده که خواہ نخواہ خدا کا بیٹا قرار دیا گیا بعض بزرگ نبیوں سے فضائل علمی اور عملی میں کم بھی تھا اور اُس کی تعلیم بھی ایک ناقص تعلیم تھی کہ جو موسیٰ کی شریعت کی ایک فرع تھی تو پھر کیونکر جائز ہے کہ خداوند قادر مطلق اور ازلی اور ابدی پر یہ بہتان باندھا جاوے کہ وہ ہمیشہ اپنی ذات میں کامل اور غنی اور قادر مطلق رہ کر آخر کار ایسے ناقص بیٹے کا محتاج ہو گیا اور اپنے سارے جلال اور بزرگی کو بیکبارگی کھو دیا۔میں ہرگز باور نہیں کرتا کہ کوئی دانا اس ذاتِ کامل کی نسبت کہ جو تجمع جمیع صفات کا ملہ ہے ایسی ایسی ذلتیں جائز رکھے۔(براہین احمدیہ ہر چہار ص۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۵ تا ۴۴۱ حاشیہ نمبر ۱۱) یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لا ناہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے۔اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سر چشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اُسی سے ہے اور اُسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہورہا ہے۔