اللہ تعالیٰ — Page 136
۱۳۶ جل شانہ و عزاسمہ عنایت ہائے او را چون شمارم که لطف اوست بیرون از شماری مرا کاریست با آن داستانی ندارد کس خبر زان کاروبارے بر درش ز انسان که نالد بوقت وضع حمل بار دارے بنالم مرا با عشق او وقتے ست مامور چه خوش وقتے چه خرم روزگارے トビ گویمت اے گلشن یار که فارغ کر دی از باغ و بہارے تے ه حمۃ اللہ۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۴۹) چہ شیریں منظری اے دلستانم چہ شیریں خصلتی اے جانِ جانم كم چو دیدم روئے تو دل در تو بستم نمانده غیر تو اندر جہانم توان برداشتن دست از دو عالم عالم مگر ہجرت بسوزد استخوانم 스 9܂ در آتش تن بآسانی توان داد ز ہجرت جان رود باصد فغانم (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۶،۳۵۵) لے میں اس کی مہر بانیوں کو کیونکر گنوں کہ اس کی مہربانیاں تو حد شمار سے باہر ہیں مجھے اس دلبر سے ایسا تعلق ہے کہ کسی کو بھی اس معاملہ کی خبر نہیں۔سے میں اس کے دروازے پر اس طرح روتا ہوں جس طرح بچہ پیدا ہوتے وقت حاملہ عورت روتی ہے۔میرا وقت اسی کے عشق سے بھر پور ہے واہ کیا اچھا وقت ہے اور کیا عمدہ زمانہ ہے۔اے یار کے گلزار تیرے کیا کہنے۔تو نے تو مجھے دنیا کے باغ و بہار سے بے پروا کر دیا۔اے میرے محبوب تو کیسا خوبصورت ہے اور اے میرے خدا تو کیسا شیریں خصلت ہے۔کے جب میں نے تیرا منہ دیکھا تو تجھ سے دل لگا لیا اور دنیا میں تیرے سوا میرا کوئی نہ رہا۔دونوں جہان سے دست برداری ممکن ہے مگر تیرا فراق میری ہڈیاں تک جلا دیتا ہے۔آگ کے اندر بدن آسانی سے ڈالا جا سکتا ہے مگر تیری جدائی سے میری جان آہ وفغاں کرتی ہوئی نکلتی ہے۔