اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 135

۱۳۵ جل شانہ و عزاسمہ متاع مہر رخ تو نہان نخواهم داشت که خفیه داشتن عشق تو از غداری است که بر آن سرم که سر و جان فدائے تو بکنم که جان بسیار سپردن حقیقت یاری است آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱) سخن نزدم مران از شہر یاری که هستم بر درے اُمید وارے بدیع و خالق و پروردگارے کو ه خداوندے کہ جان بخش جهان است بدیع کریم و قادر و مشکل کشائے رحیم و محسن و حاجت برارے فتادم بر درش زیر آنکه گویند برآید در جهان کاری ز کارے کو چو آن یار وفادار آیدم یاد فراموشم شود هر خویش و یارے بغیر او چسان بندم دل خویش کہ بے رویش نمے آید قرارے سینه ریشم مجوئید که بستیمش بدامان نگارے دلم در دل من دلبری را تخت گا ہے سر من در رہِ یارے شارے چگویم فضل او برمن چگون سرت که فضل اوست نا پیدا کنارے لے میں تیری محبت کی دولت کو ہرگز نہیں چھپاؤں گا۔کہ تیرے عشق کا مخفی رکھنا بھی ایک غداری ہے۔میں تیار ہوں کہ جان و دل تجھ پر قربان کردوں کیونکہ جان کو محبوب کے سپر دکر دینا ہی اصل دوستی ہے۔سے میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک اور دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں۔وہ خدا جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور بدیع اور خالق اور پروردگار ہے۔۵ کریم و قادر ہے اور مشکل کشا ہے۔رحیم ہے، محسن ہے اور حاجت روا ہے۔میں اس کے دروازہ پر آپڑا ہوں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ دنیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام نکل آتا ہے۔کے جب وہ یار وفادار مجھے یاد آتا ہے تو ہر رشتہ دار اور دوست مجھے بھول جاتا ہے۔میں اسے چھوڑ کر کسی اور سے کس طرح دل لگاؤں کہ بغیر اس کے مجھے چین نہیں آتا۔دل کو مرے زخمی سینے میں نہ ڈھونڈو کہ ہم نے اسے ایک محبوب کے دامن سے باندھ دیا ہے۔نا میرا دل دلبر کا تخت ہے اور میر اسر یار کی راہ میں قربان ہے۔11 میں کیا بتاؤں کہ مجھ پر اس کا فضل کس طرح کا ہے کیونکہ اس کا فضل تو ایک نا پیدا کنارسمندر ہے۔P = Po Po (>