اللہ تعالیٰ — Page 134
۱۳۴ جل شانہ و عزاسمہ آن خرد مندے که او دیوانه ات شمع بزم است آنکه او پروانه ات ہر کہ عشقت در دل و جانش فتد ناگهان جانے در ایمانش فتد عشق تو گردد عیاں ہر روئے او ہوئے تو آید ز بام و کوئے او بر صد هزاران نعمتش بخشی از جود مهر و مه را پیشش آری در سجود خود نشینی از پئے تائید او روئے تو یاد اوفتد از دید او بس نمایان کا رہا کاندر جہان می نمائی بہر اکرامش عیان خود کنی ↓ کو و خود کنانی کار را خود وہی رونق تو آن بازار را خاک را در یک دمے چیزے کنی کز ظهورش خلق گیرد روشنی کے بر کسی چوں مہربانی ے کنی از زمینی آسمانی کنی براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۶، ۶۲۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) محبت تو دوائے ہزار بیماری است بروئے تو کہ رہائی درین گرفتاری است ا پناہ روئے تو جستن نه طور مستان است که آمدن به پناهت کمال ہشیاری است لے وہ عقلمند ہے جو تر ادیوانہ ہے اور وہ شمع بزم ہے جو تیرا پروانہ ہے۔ہر وہ شخص جس کے جان و دل میں تیرا عشق داخل ہو جائے تو اس کے ایمان میں فورا جان پڑ جاتی ہے۔ے تیرا عشق اس کے چہرہ پر ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کے درودیوار سے تیری خوشبو آتی ہے۔ہے تو اس کو اپنے کرم سے لاکھوں نعمتیں بخشتا ہے سورج اور چاند کو اس کےسامنے سجدہ کرواتا ہے۔، تو اس کی نصرت کے لیے خود تیار ہو جاتا ہے اور اس کے دیدار سے تیرا چہرہ یاد آتا ہے۔اس جہاں میں بہت سے نمایاں کام تو اس کی عزت کے لیے ظاہر کرتا ہے۔کے تو آپ ہی کام کرتا ہے اور آپ ہی کرواتا ہے اور آپ ہی اس بازار کو رونق دیتا ہے۔مٹی کو تو یکدم ایک ( قیمتی ) چیز بنادیتا ہے تاکہ اس کے ظہور سے مخلوقات روشنی حاصل کرے۔2 جب تو کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے۔تیری محبت ہزار بیماریوں کی دوا ہے تیرے منہ کی قسم کہ اس گرفتاری ہی میں اصل آزادی ہے۔الے تیری پناہ ڈھونڈ نا دیوانوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ تیری پناہ میں آنا ہی تو کمال درجہ کی عقلمندی ہے۔