اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 116

١١٦ جل شانہ و عزاسمہ سے بالا تر ہو جاتا ہے اور عقل کو طاقت نہیں رہتی کہ اس کو دریافت کر سکے تب اس کی چار صفتیں جن کو چار فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔جو دنیا میں ظاہر ہو چکی ہیں اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہیں۔(۱) اول ربوبیت جس کے ذریعہ سے وہ انسان کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ روح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا سے ہے۔اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنار بوبیت کے تقاضا سے ہے۔(۲) دوم خدا کی رحمانیت جو ظہور میں آچکی ہے۔یعنی جو کچھ اس نے بغیر پاداش اعمال بے شمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں۔یہ صفت بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے۔(۳) تیسری خدا کی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اول تو صفت رحمانیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر ان کو آفات سے بچاتا ہے۔یہ صفت بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے۔(۴) چوتھی صفت مَالِكِ يَوْمِ الدِّین ہے۔یہ بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔یہ چاروں صفتیں ہیں جو اس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے۔اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہو جائے گی گویا بجائے چار کے آٹھ فرشتے ہو جائیں گے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۹،۲۷۸) تو حید ایک نور ہے جو آفاقی و انفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بجز خدا اور اس کے رسول کے ذریعہ کے