اللہ تعالیٰ — Page 7
جل شانہ و عزاسمہ چیز کا نور ہے اور ہر یک نور اُسی کے ہاتھ سے چمکا اور اُسی کی ذات کا پر توہ ہے۔وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔کسی رُوح کی کوئی قوت نہیں جو اُس سے نہ ملی ہو اور خود بخود ہو۔اور اُس کی رحمتیں دو قسم کی ہیں۔(۱) ایک وہ جو بغیر سبقت عمل کسی عامل کے قدیم سے ظہور پذیر ہیں۔جیسا کہ زمین اور آسمان اور سورج اور چاند اور ستارے اور پانی اور آگ اور ہوا اور تمام ذرات اس عالم کے جو ہمارے آرام کے لئے بنائے گئے۔ایسا ہی جن جن چیزوں کی ہمیں ضرورت تھی وہ تمام چیزیں ہماری پیدائش سے پہلے ہی ہمارے لئے مہیا کی گئیں اور یہ سب اُس وقت کیا گیا جب کہ ہم خود موجود نہ تھے نہ ہمارا کوئی عمل تھا۔کون کہہ سکتا ہے کہ سورج میرے عمل کی وجہ سے پیدا کیا گیا یا زمین میرے کسی شدھ کرم کے سبب سے بنائی گئی۔غرض یہ وہ رحمت ہے جو انسان اور اس کے عملوں سے پہلے ظاہر ہو چکی ہے جو کسی کے عمل کا نتیجہ نہیں۔(۲) دوسری رحمت وہ ہے جو اعمال پر مترتب ہوتی ہے اور اس کی تصریح کی کچھ ضرورت نہیں۔ایسا ہی قرآن شریف میں وارد ہے کہ خدا کی ذات ہر ایک عیب سے پاک ہے اور ہر ایک نقصان سے مبرا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اس کی تعلیم کی پیروی کر کے عیبوں سے پاک ہو۔اور وہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هَذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلا یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہے گا اور اس ذاتِ بے چوں کا اس کو دیدار نہیں ہو گا وہ مرنے کے بعد بھی اندھا ہی ہوگا اور تاریکی اُس سے جدا نہیں ہوگی کیونکہ خدا کے دیکھنے کے لئے اسی دنیا میں حواس ملتے ہیں۔اور جو شخص ان حواس کو دنیا سے ساتھ نہیں لے جائے گا وہ آخرت میں بھی خدا کو دیکھ نہیں سکے گا۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے صاف سمجھا دیا ہے کہ وہ انسان سے کس ترقی کا طالب ہے اور انسان اس کی تعلیم کی پیروی سے کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔پھر اس کے بعد وہ قرآن شریف میں اس تعلیم کو بنی اسرآئیل : ۷۳