اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 114

۱۱۴ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ قائم ہے۔ ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں ۔۔۔ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے۔ اُس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔ اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں جو وید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے اون کا نام فرشتے بھی ہے۔ نسیم دعوت ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۵۳ تا ۴۵۶) عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالاتر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا اُس پر بیٹھا ہوا ہے۔ اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلی کرتا ہے ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے۔ یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اٹھایا ہوا ہے اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیبی صفت اور دوسری تنزیہی صفت ۔ اس لئے خدا نے تشبیبی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ ، آنکھ، محبت، غضب و غیره صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جبکہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لَيْسَ كَمِثْلِہ کہہ دیا اور بعض جگہ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کہہ دیا جیسا کہ سورة رعد جزو نمبر 11 میں بھی یہ آیت ہے۔ اللہ الَّذِي رَفَعَ السَّمُوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ( ترجمہ ) تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے الرعد : ٣