اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 107

۱۰۷ جل شانہ و عزاسمہ حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور صد بارنگ کے راحت اور رنج ہم دیکھتے ہیں۔ہزار ہا لوگ خدا کے حکم سے مرتے ہیں اور ہزار ہا پیدا ہوتے ہیں۔دعا ئیں قبول ہوتی ہیں۔نشان ظاہر ہوتے ہیں۔زمین ہزار ہا قسم کے نباتات اور پھل اور پھول اس کے حکم سے پیدا کرتی ہے تو کیا یہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کے بغیر ہو رہا ہے بلکہ آسمانی اجرام تو ایک ہی صورت اور منوال پر چلے آتے ہیں۔اور ان میں تغییر تبدیل جس سے ایک مغیر مبدل کا پتہ ملتا ہو کچھ محسوس نہیں ہوتی مگر زمین ہزار ہا تغیرات اور انقلابات اور تبدلات کا نشانہ ہورہی ہے۔ہر روز کروڑ ہا انسان دنیا سے گذرتے ہیں اور کروڑہا پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے ایک مقتدر صانع کا تصرف محسوس ہورہا ہے تو کیا ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں اور انجیل نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ کیوں ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی۔البتہ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دُعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵ آیت ۷ میں لکھا ہے۔مگر پھر بھی خدا کا اس کے چھڑانے پر قادر نہ ہونا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہوسکتی ہے کہ اس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی۔مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلا دیکھے ہیں اور اُن سے نجات پائی ہے ہم کیونکر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں۔کیا وہ خون کا مقدمہ جو میرے قتل کرنے کے لئے مارٹن کلارک کی طرف سے عدالت کپتان ڈگلس میں پیش ہوا تھا۔وہ اوس مقدمہ سے کچھ خفیف تھا جو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کسی خون کے اتہام سے یہودیوں کی طرف سے عدالت پیلاطوس میں دائر کیا گیا تھا مگر چونکہ خدا زمین کا بھی بادشاہ ہے جیسا کہ آسمان کا اس لئے اس نے اس مقدمہ کی پہلے سے مجھے خبر دیدی کہ یہ ابتلا آنے والا ہے اور پھر خبر دے دی کہ میں تم کو بری کروں گا اور وہ خبر صد با انسانوں کو قبل از وقت سنائی گئی۔اور آخر مجھے بری کیا گیا۔پس یہ خدا کی بادشاہت تھی جس نے اس مقدمہ سے مجھے بچالیا جو مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے اتفاق سے مجھ پر کھڑا کیا گیا تھا۔ایسا ہی نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں