اللہ تعالیٰ — Page 6
۶ جل شانہ و عزاسمہ اور لاید رک ہیں تب سے میں ان لوگوں کو جو فلسفی کہلاتے ہیں پکے کا فر سمجھتا ہوں اور چھپے ہوئے دہر یہ خیال کرتا ہوں۔میرا خود ذاتی مشاہدہ ہے کہ کئی عجائب قدرتیں خدا تعالیٰ کی ایسے طور پر میرے دیکھنے میں آئی ہیں کہ بجز اس کے کہ اُن کو نیستی سے ہستی کہیں اور کوئی نام ان کا ہم رکھ نہیں سکتے جیسا کہ ان نشانوں کی بعض مثالیں بعض موقعہ پر میں نے لکھ دی ہیں۔جس نے یہ کرشمہ قدرت نہیں دیکھا اُس نے کیا دیکھا؟ ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جس کی قدرتیں صرف ہماری عقل اور قیاس تک محدود ہیں اور آگے کچھ نہیں۔بلکہ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جس کی قدرتیں اس کی ذات کی طرح غیر محدود اور نا پیدا کنار اور غیر متناہی ہیں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۰ تا ۲۸۲) قرآن شریف میں ایسی تعلیمیں ہیں کہ جوخدا کو پیارا بنانے کے لئے کوشش کر رہی ہیں۔کہیں اس کے حسن و جمال کو دکھاتی ہیں اور کہیں اُس کے احسانوں کو یاد دلاتی ہیں کیونکہ کسی کی محبت یا تو حسن کے ذریعہ سے دل میں بیٹھتی ہے اور یا احسان کے ذریعہ سے۔چنانچہ لکھا ہے کہ خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لاشریک ہے۔کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا اور مبدا ہے تمام مخلوق کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا اور مالک ہے تمام جزا سزا کا اور مرجع ہے تمام امور کا۔اور نزدیک ہے باوجود ڈوری کے اور دُور ہے باوجود نزدیکی کے۔وہ سب سے او پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔اُس نے ہر یک چیز کو اٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اٹھا رکھا ہو۔کوئی چیز نہیں جو اُس کے بغیر خود بخود پیدا ہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔وہ ہر یک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔وہ آسمان اور زمین کی ہر یک