اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 101

1+1 جل شانہ و عزاسمہ کی طرف خدا تعالیٰ کو منسوب نہیں کیا گیا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ بوجہ نہایت پاکیزگی اور تقدس کے خدا تعالیٰ میں ہم رنگ غضب ایک صفت ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ نافرمان کو جو سرکشی سے باز نہیں آتا اس کی سزا دی جائے اور ایک دوسری صفت ہم رنگ محبت ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ فرمانبردار کو اس کی اطاعت کی جزا دی جائے۔پس سمجھانے کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اور دوسری صفت کا نام محبت رکھا گیا ہے۔لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت انسانی محبت کی طرح جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔لیس گیفلِه شی۔یعنی خدا کی ذات اور صفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ آریوں کے وید کی رو سے ان کا پرمیشر کیوں گنہگاروں کو سزا دیتا ہے۔یہاں تک کہ انسانی جون سے بہت نیچے پھینک کر گتا، سور، بندر، بلا بنا دیتا ہے آخر اس میں ایک ایسی صفت ماننی پڑتی ہے کہ جو اس فعل کے لئے وہ محرک ہو جاتی ہے۔اسی صفت کا نام قرآن شریف میں غضب ہے۔۔۔۔اگر اس میں اس قسم کی صفت موجود نہیں کہ وہ تقاضا کرتی ہے کہ پر میشر گنہگاروں کو سزا دے تو پھر کیوں پر میشر کی طبیعت سزا دینے کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ آخر اس میں ایک صفت ہے جو بدلہ دینے کے لئے توجہ دلاتی ہے۔پس اسی صفت کا نام غضب ہے۔لیکن وہ غضب نہ انسان کے غضب کی مانند ہے بلکہ خدا کی شان کی مانند۔اسی غضب کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔جب وہ ایک اچھے عمل کرنے والے پر اپنا انعام واکرام وارد کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اس سے محبت کی اور جب وہ ایک برا عمل کرنے والے کو سزا دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اُس پر غضب کیا غرض جیسا کہ ویدوں میں غضب کا ذکر ہے ایسا ہی قرآن شریف میں بھی ذکر ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ ویدوں نے خدا کے غضب کو اس حد تک پہنچا دیا کہ یہ تجویز کیا کہ وہ شدت غضب کی وجہ سے انسانوں کو گنہ کی وجہ سے کیڑے الشورای : ۱۲