اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 79
الغرض اسماء الہی کی کوئی مدد نہایت نہیں ہے اور بڑے بڑے آئمہ اور محدثین مثلاً حضرت عبد العزیز بن یحیی "۔حضرت ابو بکر بن عربی۔حضرت امام نودی حضرت حافظ ابن حجرہ حضرت امام خطابی حضرت ابن تیمیه دار حضرت قرطبی نے بھی تصریح فرمائی ہے کہ اسمائے اہلی نشانو سے میں محصور نہیں۔لہ مورخ اسلام حضرت علی علی بن برہان الدین الحلبی نے " سیرت جلیہ " جلد علی ! مثلا میں اللہ تعالیٰ کے ایک ہزار نام اور خاتمته المفسرین حضرت علامہ الشیخ " اسماعیل حقی البروسوی نے روح البیان جلد ہ ماہ میں چار ہزار نام تبلائے ہیں اور سیدنا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ : - خدا تعالی کے ننانوے نام نہیں بلکہ اسکی نام نانو سے ہزار میں بھی ختم نہیں ہوتے عدد محض تقریبی ہے۔یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں صوفیاء یا گذشتہ انبیاء نے ذہن نشین کرنے کے لئے یہ اصطلاح وضع کر دی کیونکہ ان ناموں کا ذکر یہودیوں کی کتابوں میں بھی آتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اگر موٹے موٹے نام بھی کئے جائیں، تو بھی ننانوے سے بڑھ جاتے ہیں پھر نام در نام آجاتے ہیں۔پھر ان کی تشریح آجاتی ہے اور اس طرح یہ نام کئی ہزارہ یا کئی لاکھ تک جا پہنچتے ہیں " کے ۲۰۲۰ له : سیرت النبي "مجلد چہارم ص " الفولوم والمهرجان ش محمد فوادعبدالباقی)۔سے " تعليم العقائد والا اعمال پر خطبات صنا: