اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 55 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 55

۵۵ ار راجاج يَدْرَؤُكُمْ فِيْهِ وَ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيج وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُه (شورى ) مجھے وہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ارنی ہر چینہ کی جنس میں سے بھی اس کا جوڑا بنایا ہے۔چارپایوں کی جنس میں سے بھی اُن کا جوڑا بنایا ہے اور وہ ان جوڑوں کے ذریعہ سے مادی دنیا کو ترقی دیتا چلا جاتا ہے یعنی تمام دنیا میں خواہ وہ حیوان ہوں یا نباتات یا جمادات جوڑوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔خواہ اس کو نر و مادہ کہ لو خواہ اسے مثبت و منفی کہ لو خواہ اس کا کوئی اور نام رکھ لو بہر حال یہ ساری دنیا جوڑوں کے اصول پر چل رہی ہے۔ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالے فرماتا ہے۔وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تذكرون : (الذاریات تھی، اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے میں بنایا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کر یعنی تا یہ تم مجھ سو کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے سوا خُدا نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ایک جوڑے کی محتاج ہے اور اس کا قیام اور اس کی زندگی دوسری چیزدی کے ساتھ وابستہ ہے۔مغرض قرآن کریم ایک ایسی ہستی کو تمام موجودات کا مرکز قرار دیتا ہے جو اپنی ذات میں منفرد ہے اور جب کسی ساتھ کسی اور چیز کو مشابہت نہیں دی جا سکتی۔اس کی سو جتنی موجود است ہیں۔وہ سب اپنی ذات کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج ہیں۔