اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 86 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 86

AY نحضور نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا :۔انَّ اللهَ اعْطَانِي فِيْهَا مَنْ بِهِ عَلَى فَائِحَةَ الْكِتَابِ وَقَالَ هِيَ كَنَرُ مِنْ كُنُوزِ عَرْشِي : له البيهقي في الشعب) خد اتعالیٰ نے جو احسان فرما کر مجھے انعام دئے ہیں ان میں سے ایک ، فاتحۃ الکتاب بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سورۃ میرے عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔پھر یہی وہ عظیم الشان سورت ہے جس کی پیشگوئی صدیوں قبل فتوح کے نام سے مکاشفات باب ۱۰ آیت ۲ - ۵ میں پہلے سے موجود ہے اور جسے ہر سلمان کے لئے ہر نماز بلکہ ہر رکعت میں پڑھنالان می قرار دیا گیا۔بید حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ :۔سورۃ فاتحہ میں اُس خُدا کا نقشہ دکھایا گیا ہے جو قرآن شریف منوانا چاہتا ہے اور جس کو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔چنانچہ اس کی چار صفات کو ترتیب وار بیان کیا ہے۔جو أمهات الصفات کہلاتی ہیں جیسے سورۃ الفاتحہ ام الکتاب ہے۔ویسے ہی جو صفات اللہ تعالیٰ کی اس میں بیان کی گئی ہیں وہ بھی ام الصفات ہی ہیں۔اور وہ یہ ہیں۔رب العالمین : تفسير فتح البیان جلد مش مؤلفه مولا نا نواب صدیق حسن قنوجی) : - اردو بائیبل میں فتوحہ کی بجائے کھلی ہوئی کتاب لکھ دیا گیا ہے جیسے ہے اصل پیش گوئی پر پردہ ڈالنا مقصود ہے :