اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور

by Other Authors

Page 65 of 121

اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 65

وہ چیز آسمان میں ہے اور خواہ وہ زمین میں۔اور پھر فرمایا :- كَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطَاه النساء : ١٣٤) یعنی خدا ہر ایک چیز پر احاطہ کرنے والا ہے۔اور پھر فرمایا :- وَنَحنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِهِ (ق : ۱) یعنی ہم انسان کی رگِ جان سے بھی اسی نزدیک تر ہیں۔اور پھر فرمایا :- وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ اللهُ ۖ وَفِي الْأَرْضِ اللَّهُ والزخرف : ٢) یعنی مرسی خُدا نہ مین میں ہے اور وہی خُدا آسمان میں ہے " لے قرآن شریف نے خُدائے عز وجل کے غیر محدود ہونے پر علاوہ اور دلائل کے ایک یہ دلیل بھی دی ہے کہ :۔لا ندرك الأَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الأَبْصارَة وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبيرُه (انعام : ۱۰۴) نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں لیکن وہ نظروں تک پہنچتا ہے۔دیعنی انسان اپنے علم کے زور سے اُسے نہیں دیکھ سکتا مگر خدا اپنے فضل سے اس کے پاس آکر جلوہ گر ہوتا ہے اور اس طرح انسان کو اسکی رویت نصیب ہوتی ہے۔نظریں کیوں نہیں پہنچے ه: «چشمه معرفت هلال ۱۱۳ د روحانی خزائن جلد ۲۳ مثلا ۱۲۰) +